آئی ایم ایف برآمداتی صنعتوں کو دی جانے والی 100 ارب روپے کی پاور سبسڈی واپس لینے اور پاور سیکٹر پر اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔آئی ایم ایف بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ذریعے پاور سیکٹر کے 952 ارب روپے کے شارٹ فال کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔ حکومتی فریق نے آئی ایم ایف کی ٹیم کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ پوری رقم ادا کرنا مشکل ہوگا۔رپورٹ کے مطابق برآمدی شعبے کو بجلی کی مد میں 50 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔
حکومت کے پاس آئی ایم ایف کی شرائط کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ آئی ایم ایف اس بات سے آگاہ ہے کہ وہ اکیلے ہی پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے۔یہ شاید ہی حیرت کی بات ہے کہ آئی ایم ایف کے سخت رویے نے وزیر اعظم شہباز شریف کو جمعہ کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ڈالروں کی اشد ضرورت اور بحران سے نجات کے پیش نظر ان کی انتظامیہ کو مذاکرات میں مشکل ٹاسک دے رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت والے اتحاد کو کچھ شرائط قبول کرنے پر افسوس ہو سکتا ہے، جیسے لائف لائن بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی کی سبسڈی واپس لینا۔تاہم، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ اسحاق ڈار اپنے آپ کو جس مشکل میں محسوس کررہے ہیں اس کے وہ مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ اگر وہ آئی ایم ایف کے ساتھ بے جا تصادم سے گریز کرتے اور مہینوں کی محنت کے بعدطے شدہ پروگرام کو دیانتداری سے انجام دیتے تو شاید آج حالات اتنے سنگین نہ ہوتے۔اس نازک صورتحال کے باوجود بھی مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت کی یہ کوشش ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو دبانا ہی بہترین اقدام ہے۔
جیسا کہ تمام قرض دہندگان (چاہے وہ دوست ممالک ہوں یا آئی ایم ایف) معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے کا مطالبہ کرتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا اپوزیشن کو سیاسی نشانہ بنانے کا طریقہ ملک کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوگا، اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو شامل کیے بغیر کوئی اتفاق رائے کیسے ہو سکتا ہے؟ ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما (عمران خان) کے ساتھ جڑے بغیر کوئی سیاسی اتفاق رائے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ دعویٰ کر کے کہ آئی ایم ایف کو سیاسی اتفاق رائے درکار ہے اور عمران خان ان سے اتفاق نہیں کرتے، پی ڈی ایم حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اتفاق رائے اور وضاحت کا کیا مطلب ہے کہ جس کا آئی ایم ایف اب اٹل مطالبہ کر رہا ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور حکومت جو بھی راستہ اختیار کر لے، عوام، جو پہلے ہی آسمان کو چھوتی مہنگائی اور ملازمتوں میں کمی سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، پچھلے کئی ماہ میں مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت نے جو کچھ کیا یا نہیں کیا اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں