امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ابتدائی حملہ کیا گیا صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا تہران سمیت کئی شہروں میں 30 مقامات پر میزائل داغ دیئے۔
28 فروری 2026 کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران میں یکے بعد دیگرے کئی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ شہر کے مرکزی علاقوں سے گہرے دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔ ان واقعات کے فوراً بعد اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا اعلان کیا جس سے خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تہران کے اہم علاقوں جن میں یونیورسٹی اسٹریٹ، جمہوری ایریا اور پاستور روڈ شامل ہیں میں متعدد میزائل حملوں یا فضائی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں دھواں پھیل گیا۔ اس واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔
ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا نے دھماکوں کی تصدیق کی ہے تاہم حملوں کے درست اہداف، جانی نقصان یا زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اسرائیل کا مؤقف
اسرائیل کے وزیر دفاع، اسرائیل کاتز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی ایک پیشگی فوجی اقدام ہے جس کا مقصد اسرائیل کو درپیش خطرات کو ختم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسرائیل نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ شہریوں کو ممکنہ جوابی حملوں کے پیش نظر محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی فضائی حدود عارضی طور پر سویلین پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
امریکہ کا ممکنہ کردار اور پس منظر
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ بھی اس کارروائی سے آگاہ تھا اور خطے میں امریکی فضائی اور بحری افواج کی موجودگی پہلے ہی بڑھا دی گئی تھی۔ بعض رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ امریکی افواج ممکنہ طور پر آپریشن میں معاون کردار ادا کر رہی ہیں تاہم اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار تھے اور باہمی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے اور اس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔
علاقائی اور عالمی ردعمل
دھماکوں کے بعد تہران اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ایران نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام، خصوصاً موبائل سروس میں خلل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے علاقائی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ عالمی برادری حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک نے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
ایرانی حکومت کا ردعمل
ایرانی حکام نے دھماکوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم اب تک کسی اعلیٰ سرکاری عہدیدار کی جانب سے حملے کی مکمل تفصیلات یا نقصانات کے بارے میں جامع بیان جاری نہیں کیا گیا۔ مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
کیا خطے میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو چکا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کرسکتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کی جھڑپیں اور حملے ہوتے رہے ہیں، تاہم حالیہ پیشگی کارروائی تنازع کو وسیع تر تصادم میں بدل سکتی ہے۔
تہران میں دھماکوں، دھویں کے بادلوں اور اسرائیل کی جانب سے پیشگی فوجی حملے کے اعلان نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت نازک بنا دیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں فریقین کے ردعمل اور عالمی سفارتی کوششیں اس بحران کی سمت کا تعین کریں گی۔ دنیا بھر کی نظریں اس وقت خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








