براعظم ایشیا میں طاقت کا توازن ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں چین نے خاموشی سے اپنی فوجی حکمتِ عملی کو نئی شکل دیتے ہوئے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں پرانے لڑاکا طیاروں کو مہلک ڈرونز میں بدل کر تائیوان کے قریب تعینات کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ قدم نہ صرف خطے میں بڑھتی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ بیجنگ براہِ راست جنگ کے بجائے جدید اور غیر روایتی طریقوں سے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
یہ J-6W ڈرونز جو کبھی سرد جنگ کے دور کے انسان بردار طیارے تھے اب ایسے قابلِ استعمال پلیٹ فارمز بن چکے ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مقصد دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو مغلوب کرنا، میزائل ذخائر ختم کروانا اور بطور دھوکہ (decoy) یا یک طرفہ حملہ آور نظام کے طور پر کام کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں جن میں جے مائیکل ڈہم (Mitchell Institute سے وابستہ) بھی شامل ہیں کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی بیجنگ کی اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ کم لاگت اور بڑی تعداد میں دستیاب وسائل استعمال کر رہا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں فوجی مصروفیات میں الجھا ہوا ہے۔
اگرچہ چین نے اس اقدام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تاہم اوپن سورس شواہد اور تائیوانی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ امریکہ کی ممکنہ حد سے زیادہ مصروفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ مکمل جنگ شروع کیے بغیر اپنی طاقت کا مظاہرہ اور دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
چینی فوج (PLA) کے 2026 کے دفاعی بجٹ میں 7 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید کاری کا عمل جاری ہے اگرچہ بیجنگ نے تائیوان پر حملے کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا۔
ایک امریکی مبصر نے کہا کہ وہ جنگیں شروع نہیں کر رہے بلکہ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ بڑی طاقتوں کا موقع پرستانہ رویہ ہے محض اتفاق نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی انٹیلیجنس بھی کہتی ہے کہ چین تائیوان پر قبضہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے اگرچہ فی الحال وہ براہِ راست جنگ کے بجائے غیر فوجی دباؤ (non-kinetic pressure) کو ترجیح دے رہا ہے۔ 2027 کی کسی حتمی حملے کی تاریخ طے نہیں، مگر فوجی جدید کاری پوری رفتار سے جاری ہے۔
فوجی مبصرین کے مطابق چین نے یہ تنازعات پیدا نہیں کیے لیکن وہ اس موقع کو ضائع بھی نہیں کر رہا۔ جب امریکہ اپنے بحری بیڑے، اسلحہ اور توجہ کہیں اور منتقل کرتا ہے تو بیجنگ گرے زون دباؤ (جیسے فضائی دراندازی، ڈرون سرگرمیاں اور فوجی مشقیں) بڑھا دیتا ہے تاکہ تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے اور یہ پیغام دیا جا سکے کہ امریکی وعدے ناقابلِ تغیر نہیں ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








