عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس ایک نئے تنازع کا شکار ہوگیا ہے، جب اس کے کورین ڈرامہ جینی، میک اے وش میں ابلیس کو ایک رومانوی اور نیک کردار کے طور پر دکھانے پر مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس ڈرامے میں مرکزی مرد کردار ایک جن کے روپ میں پیش کیا گیا ہے جس کا نام ابلیس رکھا گیا ہے اور اسے ایک پیچیدہ مگر آخرکار مثبت شخصیت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
اسلامی عقائد کے مطابق ابلیس شیطان یا بدی کی علامت ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں ایک سرکش مخلوق کے طور پر کیا گیا ہے۔
Suzy and Kim Woobin's drama 'Genie, Make a Wish' gets flamed overseas for misuse of religious elementshttps://t.co/P0YB9EDkuK pic.twitter.com/9NfGMI00EW
— pannchoa (@pannchoa) October 8, 2025
اس تناظر میں نیٹ فلکس کے اس ڈرامے کو مسلم دنیا میں مذہبی حساسیت مجروح کرنے کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔ بہت سے ناظرین کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف مذہبی طور پر نامناسب ہے بلکہ عقائد کی توہین کے مترادف ہے۔
تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ نیٹ فلکس اور ڈرامے کے خالقین نے مذہبی عقیدے کے ایک مقدس تصور کو ایک ہلکی پھلکی رومانوی کہانی کے لیے استعمال کر کے ثقافتی شعور کی کمی کا ثبوت دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر #BoycottGenieMakeAWish اور #CancelNetflix جیسے ہیش ٹیگز تیزی سے ٹرینڈ کر رہے ہیں جبکہ دنیا بھر کے صارفین نے مختلف پلیٹ فارمز جیسے آئی ایم ڈی بی اور روٹن ٹومیٹوز پر اس ڈرامے کی ریٹنگز کو بری طرح گرا دیا ہے۔
مزید برآں ڈرامے میں اسلامی روایات سے منسلک دیگر تصورات جیسے جنات کی تخلیق اور فرشتے عزریل کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے کئی ناظرین نے مذہبی علامتوں کی تضحیک قرار دیا ہے۔ اب تک نیٹ فلکس یا پروڈکشن ٹیم کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے عوامی غصہ مزید بڑھ گیا ہے۔
کچھ ناظرین نے ڈرامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک خالصتاً فرضی اور فنتاسی نوعیت کی کہانی ہے، جسے مذہبی یا ثقافتی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
ڈرامے کی مصنفہ کم ان سوک کا کہنا ہے کہ اس کہانی کا مقصد مذہبی تبصرہ نہیں بلکہ محبت اور نیکی کی قوت کو اجاگر کرنا تھا جو انسانوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔
یہ واقعہ عالمی تفریحی صنعت کے لیے ایک بڑی یاد دہانی ہے کہ مذہبی اور ثقافتی عقائد پر مبنی کہانیوں میں حساسیت اور احترام کا پہلو ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








