بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کے علاقے بنڈلاگوڑہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک باپ نے اپنے تین سالہ بیٹے کو قتل کرکے اس کی لاش ندی میں پھینک دی، پولیس کے مطابق 35 سالہ سبزی فروش محمد اکبر نے اپنے بیٹے محمد انس کو قتل کیا۔
ملزم اکبر کی بیوی ثنا بیگم ایک اسپتال میں نگراں کے طور پر کام کرتی ہے۔ جوڑے کے دو بیٹوں میں سے بڑا بیٹا سات سال کا ہے جبکہ انس تین سال کا تھا اور کچھ عرصے سے بیمار رہتا تھا جس کی وجہ سے میاں بیوی میں اکثر جھگڑے ہوتے تھے۔
جمعہ کی رات جب اس کی اہلیہ ڈیوٹی پر گئیں تو اکبر نے انس کو تکیے سے دم گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد اس نے لاش کو ایک تھیلے میں بند کیا اور موٹر سائیکل پر نیاپُل برج تک لے گیا جہاں سے اس نے لاش کو موسیٰ ندی میں پھینک دیا۔
ملزم نے اگلی صبح اکبر نے پولیس اسٹیشن جا کر جھوٹ بولا کہ اس کا بیٹا لاپتہ ہو گیا ہے اور رشتہ داروں نے اسے گھر کے قریب چھوڑا تھا جہاں سے وہ غائب ہو گیا۔
پولیس کو ملزم کے بیان پر شک ہوا اور انہوں نے اس کے فون ریکارڈز اور قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال کی۔ فوٹیج میں اکبر کو صبح کے وقت ایک تھیلا لے جاتے دیکھا گیا۔
پولیس کی سخت پوچھ گچھ کے بعد ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے اور بچے کی لاش کی تلاش کے لیے موسیٰ ندی میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








