امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوؤں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ پاکستانی نژاد ریپبلکن رہنما ساجد تارڑ کے حالیہ بیانات نے صورتحال کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
ساجد تارڑ کے مطابق ان کے پاس موجود معلومات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 میں سے 11 شرائط پر ابتدائی اتفاق رائے ہو چکا ہے جبکہ اسی طرح ایران کی 10 میں سے 7 تجاویز بھی قبول کیے جانے کے قریب ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد سے ہونے والی ابتدائی سفارتی کوششوں میں پیشگی ٹیموں نے زیادہ تر فریم ورک پہلے ہی طے کر لیا ہے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے پر دستخط بھی ہو سکتے ہیں۔
ساجد تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی قیادت خاص طور پر وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل صورتحال سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے امکانات ہوتے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس عمل میں شامل نہ ہوتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کے دوران خدشہ موجود ہے کہ اسرائیل مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے خطے کو ایک بڑی جنگ حتیٰ کہ ممکنہ عالمی تصادم سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ساجد تارڑ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی کشیدگی کم ہوئی بلکہ سعودی عرب، مصر، ترکی اور چین جیسے ممالک نے بھی اس عمل میں سفارتی تعاون فراہم کیا جس سے مذاکراتی عمل کو تقویت ملی۔ خلیجی ممالک، چین اور ترکی کی حمایت کو اس پیش رفت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








