پاکستان کے شمالی خطے سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہر لسانیات، سافٹ ویئر انجینئر اور ادیب رحمت عزیز چترالی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ زبان و ادب کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے کر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔
1970 میں چترال کے علاقے تورکھو میں پیدا ہونے والے رحمت عزیز چترالی نے کم عمری سے ہی علمی اور ادبی سفر کا آغاز کیا مگر اصل شہرت انہیں اس وقت ملی جب انہوں نے ایک منفرد سافٹ ویئر اور کیبورڈ متعارف کروایا جس کے ذریعے پاکستان کی 40 سے زائد زبانوں میں کمپیوٹر پر تحریر ممکن ہو سکی۔ اس غیر معمولی ایجاد نے نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا بلکہ معدوم ہوتی زبانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں نئی زندگی بھی دی۔
ان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں معروف سائنسدان عبدالقدیر خان کے نام سے منسوب ایوارڈ اور گولڈ میڈل سے نوازا جبکہ جرمنی کی جانب سے بھی انہیں انٹرنیشنل انوویشن ایوارڈ دیا گیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ پہلے پاکستانی بنے۔
رحمت عزیز چترالی کی خدمات صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے کھوار سمیت متعدد علاقائی زبانوں کے فروغ، تحقیق اور تدریس کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے نہ صرف مختلف زبانوں کے لیے الگ الگ کیبورڈز تیار کیے بلکہ پہلی بار شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے کلام کا کھوار زبان میں منظوم ترجمہ بھی کیا جو ادبی حلقوں میں ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
ادبی دنیا میں بھی ان کا مقام منفرد ہے۔ وہ شاعر، کالم نگار اور محقق کے طور پر جانے جاتے ہیں جبکہ ان کی تحریریں اردو اور کھوار دونوں زبانوں میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کے شعری مجموعے اور تحقیقی کام پاکستان کی مختلف جامعات میں زیرِ مطالعہ ہیں جہاں طلبہ اور محققین ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔
رحمت عزیز چترالی مادری زبانوں میں تعلیم کے مضبوط حامی ہیں اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں کھوار زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی پیش رفت بھی ممکن ہوئی۔ ماہرین کے مطابق ان کی کاوشیں نہ صرف لسانی ورثے کے تحفظ بلکہ نئی نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رحمت عزیز چترالی کی شخصیت اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر عزم اور وژن ہو تو ایک فرد بھی ٹیکنالوجی اور ثقافت کے درمیان پل بن کر پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








