اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے نمائندہ وفود اہم سطح کے مذاکرات کیلئے آمنے سامنے بیٹھ چکے ہیں، اور اندازہ ہے کہ گفتگو میں ایسے وسیع مگر نہایت پیچیدہ معاملات زیرِ بحث آئیں گے جو مذاکرات کے مجوّزہ ایجنڈے پر غالب رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کی گہرائی کے باعث یہ بات چیت محض رسمی نہیں بلکہ حساس نوعیت کی سفارتی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد نازک جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور اس بنیاد پر کسی بڑے اور جامع معاہدے کیلئے امکانات تلاش کرنا ہے۔ یہ مذاکرات دراصل کشیدگی میں کمی کو برقرار رکھنے اور آئندہ کسی مستقل فریم ورک کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
معروف صحافی انصار عباسی کے تجزئیے کے مطابق گفتگو کا ڈھانچہ بنیادی طور پر دو الگ تجاویز کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایران نے اپنی ترجیحات کو دس نکاتی خاکے کی صورت میں پیش کیا ہے، جبکہ امریکا نے اس کے مقابلے میں پندرہ نکات پر مشتمل منصوبہ سامنے رکھا ہے۔ اگرچہ دونوں جانب سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے، لیکن کئی بنیادی امور پر اختلافات بدستور نمایاں ہیں، جن میں سرفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
تجزئیے کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ تہران سے مضبوط اور واضح یقین دہانیاں لی جائیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی طرف پیش قدمی نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ امریکا محدود سطح پر یورینیم افزودگی، سخت پابندیوں اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے کڑی نگرانی کا خواہاں ہے تاکہ کسی ممکنہ انحراف کو روکا جا سکے۔
اس کے برعکس ایران پرامن جوہری سرگرمیوں کے اپنے حق کو تسلیم کرانے پر زور دے رہا ہے، جس میں یورینیم افزودگی بھی شامل ہے۔انصار عباسی کا ماننا ہے کہ تہران اسے اپنی قومی خودمختاری اور سائنسی پیش رفت کا معاملہ قرار دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ اقتصادی پابندیاں بھی ایک کلیدی موضوع ہیں، کیونکہ ایران عالمی سطح پر عائد تمام پابندیوں کے فوری خاتمے اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
امریکی مؤقف اس معاملے پر مختلف ہے۔ واشنگٹن مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کے حق میں ہے، جسے ایران کی جانب سے جوہری اور سکیورٹی وعدوں پر قابلِ تصدیق عمل درآمد سے مشروط کیا جا رہا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اعتماد کی بحالی کے بغیر یکدم پابندیاں اٹھانا ممکن نہیں ہوگا۔
اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز بھی تنازع کا اہم پہلو ہے۔ ایران اس گزرگاہ پر اپنے ضابطہ جاتی کردار کو تسلیم کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس حوالے سے اپنی جغرافیائی پوزیشن اور معاشی اہمیت کو بنیاد بنا رہا ہے۔
دوسری طرف امریکا کا اصرار ہے کہ عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی اور غیر محدود بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے طور پر برقرار رہے۔ واشنگٹن کسی ایسی صورت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں جو جہاز رانی یا رسد کے بہاؤ پر اثر انداز ہو۔ علاقائی اثر و رسوخ کا معاملہ بھی اسی تناظر میں حساس بن چکا ہے۔
امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی مسلح گروہوں کیلئے ایران کی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے برعکس ایران ان گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو روکنے اور خطے میں مجموعی کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے تاکہ تنازعات کو محدود کیا جا سکے۔
ایران نے خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی واضح ضمانت کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے۔ امریکا نے تاہم اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے فوجی موجودگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اسی کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاملہ بھی اختلافات میں شامل ہے۔
واشنگٹن ایران کی میزائل صلاحیتوں اور دفاعی پروگرام کو محدود دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ تہران اسے اپنے دفاعی حق میں مداخلت قرار دیتا ہے۔ ایران نے حالیہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے اپنے مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے حوالے سے جوابدہی پر زور دیے جانے کا امکان ہے۔
دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، اور سفارتی ذرائع کے مطابق پیش رفت بتدریج اور مرحلہ وار ہوسکتی ہے۔ ابتدا میں اعتماد سازی کے اقدامات سامنے آسکتے ہیں۔ فوری بڑی کامیابی کی توقع کم ہے، تاہم مذاکرات کے جاری رہنے کی صورت میں جنگ بندی میں توسیع کا امکان بھی موجود بتایا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








