غیرت کے نام پر ناحق قتل

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیرت کے نام پر بڑے بڑے جھگڑے، تصادم، مار پیٹ، تشدد اور قتل کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور زیادہ تر اس قسم کے واقعات کی بنیادی وجہ غیرت نہیں بلکہ جہالت ہوا کرتی ہے۔

دراصل جہالت ہی وہ عنصر ہے جو کسی انسان کو غیرت کے نام پر قتل کیلئے اکساتا ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ ادراک ہوجائے کہ غیرت کہتے کسے ہیں اور کسی بھی ایسے واقعے پر جس کا منطقی نتیجہ اس کے خیال میں صرف قتل ہونا چاہئے، اسلام کیا کہتا ہے تو قتل کی نوبت ہی نہ آئے۔

ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل صرف خواتین ہوتی ہیں اور قتل کرنے والے صرف مرد، کیونکہ 2011 میں کراچی کے اندر ایک خاتون نے شوہر کی لاش کے ٹکڑے سالن میں پکا کر ٹھکانے لگانے کی مذموم حرکت کی۔ 2018 میں یو اے ای میں ایک خاتون نے بوائے فرینڈ کی لاش کے ٹکڑے کچھ لوگوں کو کھلا دئیے۔ اسی قسم کے بے شمار واقعات پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں قاتل خواتین اور مقتول مرد تھے۔

اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برطانیہ، برازیل، بنگلہ دیش، ایکوادور، بھارت، مصر، اٹلی، اسرائیل، مراکش، سویڈن، یوگنڈا، ایران، فلسطین اور یورپ کے کئی ممالک مثلاً ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، ناروے اور فرانس سمیت دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

سن 1990 میں پاکستان کی ایک وفاقی شرعی عدالت نے تجویز دی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اشتعال انگیزی چاہے کتنی ہی سنگین یا اچانک کیوں نہ ہو، قتل کے جرم کیلئے سزا کی شدت کم کرنے یا نرمی کا جواز نہیں بن سکتی، تاہم غیرت کے نام پر قتل کے قاتل کو نرم سزا سنائی جاتی ہے۔

گزشتہ روز پاکستانی میڈیا پر سامنے آنے والی خبر میں آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ سوات میں وین پر فائرنگ دراصل غیرت کے نام پر قتل تھا۔ مقتول حسین احمد کو اس کے سالے نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔ واقعے میں 2 بچے زخمی بھی ہوگئے۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ حملے کے بعد ایک ملزم گرفتار ہوا جبکہ 2 افراد تاحال فرار ہیں۔ ایک ملزم تو دبئی فرار ہوگیا جس کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کریں گے۔ آلۂ قتل اور موٹر سائیکل برآمد کر لی ہے۔

دراصل غیرت سے مراد کسی بھی شخص، قبیلے، گروہ یا حکومت کی عزت ہے جس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کو سزا دینے کا تصور ایک عام سی بات ہے، تاہم اسلامی شریعت میں اس بات کا کوئی تصور نہیں ملتا کہ یہ سزا موت اور صرف اور صرف موت ہی ہوگی۔

وقت آگیا ہے کہ غیرت کے نام پر دوسروں کو قتل کردینے کی سوچ رکھنے والے افراد اپنی سوچ بدلیں اور اگر کوئی ایسی بات ان کے سامنے آتی ہے جسے وہ غیرت کے خلاف قرار دیں تو خود کوئی اقدام اٹھانے کی بجائے یہ معاملہ قانون اور شریعت کے سپرد کریں۔

جہاں بات شریعت کی آتی ہے تو کچھ قبیلے ایک جرگہ بٹھا دیتے ہیں جو خود بھی غیرت کا قائل ہو اور ایسے لوگ کچھ اس قسم کے فیصلے کرتے ہیں جن پر بعض اوقات انسانیت بھی شرمسار ہوجائے جبکہ خود اسلامی شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں جو اپنا کام کرنا جانتی ہیں۔ بہتر ہے کہ ان سے رجوع کیا جائے اور اگر جرگہ ہی چاہئے تو جرگے کے شرکاء کو اسلامی شریعت اور ملکی قوانین کا علم ہونا ضروری ہے۔

Related Posts