کراچی کے پوش علاقے ڈیفینس میں ایک ریسٹورنٹ میں خاتون پر مبینہ تشدد کا واقعہ پیش آیا تاہم واقعے کا مقدمہ تاحال نہیں کیا جا سکا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ گزری پولیس نے صرف درخواست وصول کی اور مزید کارروائی نہیں کی۔
واقعے کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق عائشہ نامی خاتون اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک ٹیبل پر کھانا کھا رہی تھیں کہ اسی دوران کونے میں بیٹھی تین خواتین اچانک اٹھ کر ان کی میز کی طرف آئیں اور مبینہ طور پر حملہ کر دیا۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرخ لباس میں ملبوس ایک لڑکی نے خاتون کو تھپڑ مارا جبکہ سیاہ کپڑوں میں موجود دوسری لڑکی نے میز سے پلیٹ اٹھا کر ان پر پھینک دی۔ اس دوران حملہ آور خواتین کے ساتھ موجود دیگر افراد بھی موقع پر پہنچ گئے اور صورتِ حال کشیدہ ہو گئی۔
کراچی،
ڈیفنس فیز سکس میں ریسٹورینٹ کی چھت پر خواتین کا جھگڑاواقعہ کا مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا
گزری پولیس نے خواتین سے جھگڑے کی درخواست جمع کرلی
تین خواتین نے ٹیبل پر کھانا کھاتی خاتون پر مل کر دھاوا بول دیا
عائشہ لڑکی نامی اپنے دوستوں کے ہمراہ کھانا کھا رہی تھی، فوٹیج
کونے… pic.twitter.com/QS6HTsmTZa
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) February 21, 2026
جھگڑے کے بعد ون فائیو مددگار پولیس کو طلب کیا گیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق تشدد کرنے والی خواتین کی فیملی کا ان کی ایک دوست کے ساتھ تقریباً ایک سال قبل جھگڑا ہوا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے انہیں مارنے کے بعد یہ پیغام دینے کو کہا کہ ہم تمہارا بھی یہی حال کریں گے۔
متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ گزری پولیس نے ان کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے صرف درخواست وصول کی اور انہیں واپس بھیج دیا۔ انہوں نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہیں لہٰذا انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث خواتین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








