جمال المليكی کا نام آج عرب دنیا کی تحقیقی صحافت میں ایک معتبر حوالہ بن چکا ہے۔ وہ ان معدودے چند صحافیوں میں سے ہیں جو نہ صرف حقائق کو بے نقاب کرنے کی جرأت رکھتے ہیں بلکہ ان کی پیشکش کو اس انداز میں مرتب کرتے ہیں کہ قاری اور ناظر دونوں ایک ساتھ حقیقت کی شدت اور اس کے ادبی تاثر کو محسوس کر سکیں۔
حالیہ دنوں میں ان کی تخلیق کردہ تحقیقی فلم “صناعة الموت” (موت کی صنعت) نے صحافتی، انسانی اور سیاسی حلقوں میں ایک گہری بحث کو جنم دیا ہے۔ عرب سوشل اور مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی اس فلم کا خوب چرچا ہے۔ یہ فلم محض ایک ڈاکیومنٹری نہیں بلکہ ایک ایسی شہادت ہے، جو شام کے المیے کو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ جس میں 10 لاکھ سے زائد لاپتہ افراد کی تفصیلات درج ہیں۔
پس منظر اور محرکات
“صناعة الموت” بنیادی طور پر شام میں جاری خانہ جنگی اور بالخصوص بشار الاسد کے نظام حکومت کے تحت ہونے والے مظالم کا احاطہ کرتی ہے۔ جمال المليكی نے اپنی تفتیشی کاوش میں یہ دکھایا ہے کہ کس طرح ایک ریاستی نظام انسانی جان کو فنا کرنے کے لیے ایک منظم ڈھانچے میں بدل گیا۔ اسپتال جو زندگی بچانے کی علامت ہوا کرتے تھے، وہاں موت کی پرچیاں تیار ہونے لگیں۔ عدالتی ریکارڈ جنہیں انصاف کی دستاویز ہونا چاہیے تھا، وہ موت کے سرٹیفکیٹس میں تبدیل ہوگئے۔ یہاں تک کہ شناخت اور نسب کی اقدار بھی مٹا دی گئیں اور ایسے بچے وجود میں آئے جنہیں کسی ماں باپ کا نام نہیں دیا گیا۔
نظامِ موت کا انکشاف
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ شام میں موت کوئی حادثہ نہیں رہی، بلکہ ایک اداری نظام بن گئی ہے۔ ریاستی ادارے، سیکورٹی مشینری اور حتیٰ کہ میڈیکل اسٹاف بھی اس نظام کا حصہ بنا دیے گئے۔ طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں پر دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ قتل ہونے والے افراد کی موت کی وجوہات کو قدرتی ظاہر کریں۔ جیلوں اور خفیہ عقوبت خانوں سے نکلنے والی ہزاروں تصاویر یہ گواہی دیتی ہیں کہ موت کس قدر منظم اور مکینیکل انداز میں تقسیم کی جا رہی تھی۔
دستاویزی شہادتیں
جمال المليكی نے اپنی فلم میں ایسی دستاویزات پیش کیں جنہیں رد کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ان میں شامل ہیں:
1۔ 5900 سے زائد تصاویر جن میں قیدیوں کی لاشوں پر واضح نشانات ہیں: گلا گھونٹنے، گولی مارنے اور جسمانی تشدد کے آثار۔
2۔ سرکاری ریکارڈ جس میں قیدیوں کے نام مٹا کر صرف نمبرز ڈال دیئے گئے تاکہ ان کی شناخت ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے۔
3۔ تحقیقی رپورٹس اور بایومیٹرک ڈیٹا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ لاکھوں افراد کو منظم طریقے سے سسٹم میں درج کیا گیا اور پھر غائب کر دیا گیا۔
گمشدگان اور لاپتہ افراد
فلم کی ایک اور چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ شام میں ایک ایسا سرکاری ڈیٹا بیس موجود ہے، جس میں 10 لاکھ سے زائد لاپتہ افراد کا ریکارڈ درج ہے۔ یہ افراد محض اعداد و شمار نہیں بلکہ خاندانوں کی امیدیں اور تاریخ کا حصہ تھے۔ ان کے انجام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، لیکن جمال المليكی کے مطابق یہ ریکارڈ مستقبل میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
نومولود اور شناخت کی چوری
جمال المليكی نے اپنی تحقیق کے دوران ایسے مراکز بھی دکھائے جہاں درجنوں نومولود بچے بغیر کسی والدین کے اندراج کے رکھے گئے ہیں۔ یہ بچے اکثر ایسے افراد کے تھے جو یا تو جیلوں میں مار دیئے گئے یا ان خواتین کے ہیں، جنہیں قید کے دوران منظم طریقے سے جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔ ان بچوں کو “مجهولو النسب” (نسب نامعلوم) بنا دیا گیا تاکہ ان کی شناخت ہمیشہ کے لیے مٹ جائے۔ یہ صرف قتل نہیں بلکہ ایک جريمة هوية ہے، یعنی شناخت کے حق پر ڈاکہ۔
اجتماعی قبریں اور جاری قتل
فلم میں ایسے مقامات کی تصویریں اور شواہد بھی پیش کیے گئے جہاں سینکڑوں لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کی گئیں۔ یہ قبریں اس حقیقت کی علامت ہیں کہ شام میں قتل محض ایک وقتی حربہ نہیں بلکہ ریاستی پالیسی بن چکا تھا۔ جمال المليكی نے ایک جگہ کہا:
“الموت لم يكن حادثاً عابراً، بل كان عملاً جارياً حتى آخر لحظة.”
(“موت کوئی عارضی حادثہ نہ تھی، بلکہ ایک مسلسل عمل تھا جو آخری لمحے تک جاری رہا۔”)
جمال المليكی کا صحافتی اسلوب
“صناعة الموت” کی سب سے بڑی خصوصیت جمال المليكی کا صحافتی انداز ہے۔ وہ نہ صرف جذباتی مواد کو سامنے لاتے ہیں بلکہ اسے تحقیقی منہج کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
“العاطفة تمنح الفيلم روحه، أما الوثيقة فهي ما يبقيه حياً في أرشيف الحقيقة.” یعنی جذبات فلم کی روح ہیں لیکن دستاویز اسے تاریخ میں زندہ رکھتی ہے۔
بین الاقوامی اثرات
یہ فلم صرف شام کی حقیقت نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ عالمی برادری کہاں تھی جب لاکھوں افراد جیلوں اور عقوبت خانوں میں فنا کر دیے گئے؟ یہ فلم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ ان دستاویزات کو محض ایک صحافتی انکشاف نہ سمجھیں بلکہ قانونی کارروائی کا نقطہ آغاز بنائیں۔
صحافتی و اخلاقی اہمیت
جمال المليكی کی کاوش اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی گواہی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب طاقتور قاتل اپنے جرائم کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو صحافی ان جرائم کو زندہ رکھنے والا قلم بن سکتا ہے۔
“صناعة الموت” جمال المليكی کی ایک ایسی کاوش ہے جو شام کے المیے کو اعداد و شمار سے نکال کر انسانی چہروں میں ڈھال دیتی ہے۔ یہ فلم صرف صحافت نہیں، بلکہ ایک تاریخی دستاویز ہے جو دنیا کو یہ یاد دلاتی ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، لیکن اس کی سچائی ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ جمال المليكی نے اپنی جرات مندانہ اور تحقیقی صحافت کے ذریعے ثابت کیا کہ موت کو اگرچہ صنعت میں بدلا جا سکتا ہے، لیکن سچائی کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں