بھارت جہاں دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی آباد ہے اپنی رنگا رنگ ثقافت اور تنوع کیلئے مشہور ہے۔ یہاں کے مسلمانوں نے فنون، ادب، سائنس اور دیگر شعبوں میں اپنی چھاپ چھوڑی ہے لیکن کاروباری دنیا میں ان کی موجودگی نسبتاً کم رہی ہے تاہم ایک ایسا مسلم خاندان ہے جس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر کاروبار کے میدان میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔یہ ہے پریم جی خاندان جس کی سربراہی عظیم پریم جی کر رہے ہیں۔

آئی ٹی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور وپرو لمیٹڈ کے بانی عظیم پریم جی ہندوستان کے امیر ترین مسلمان ہیں جن کی مجموعی دولت 11.6 بلین ڈالر (تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے) ہے جیسا کہ فوربس نے رپورٹ کیا۔
عظیم پریم جی کی کہانی کسی افسانے سے کم نہیں۔ انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی اور 1960 کی دہائی کے آخر میں وپرو کی قیادت سنبھالی۔ اس وقت وپرو ایک چھوٹی سی کمپنی تھی جو ہائیڈروجنیٹڈ کوکنگ فیٹ بناتی تھی اور اس کی مالیت صرف 2 ملین ڈالر تھی۔
عظیم پریم جی کی دور اندیشی اور قائدانہ صلاحیتوں نے اس کمپنی کو آئی ٹی، بی پی او اور آر اینڈ ڈی سروسز کے شعبے میں ایک عالمی طاقت بنا دیا۔ آج وپرو کی سالانہ آمدنی 10 بلین ڈالر سے زائد ہے اور اس کی موجودگی 66 ممالک میں ہے۔ اس کے علاوہ پریم جی کی زیرِ قیادت دیگر کمپنیاں ٹیکسٹائل، پریزیشن انجینئرنگ اور ہیلتھ کیئر جیسے متنوع شعبوں میں تقریباً 2 بلین ڈالر کی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔
عظیم پریم جی کی خدمات صرف کاروبار تک محدود نہیں۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور شراکت کی بدولت انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ وہ فیراڈے میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ہیں جبکہ انہیں مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی، ویزلیان یونیورسٹی، اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (بمبئی، روڑکی، اور کھڑگ پور) جیسے ممتاز اداروں سے اعزازی ڈاکٹریٹ عطا کی گئی ہیں۔ فرانس نے انہیں اپنا سب سے بڑا شہری اعزاز، نائٹ آف دی لیجن آف آنر، سے بھی نوازا۔
عظیم پریم جی نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں بلکہ ایک عظیم فلاحی رہنما بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ سماجی بہبود، بالخصوص تعلیم کے شعبے میں عطیہ کیا ہے۔ ہرن انڈیا فلانتھروپی لسٹ 2021 کے مطابق، انہوں نے 9,713 کروڑ روپے کے عطیات دیئے ہیں جو ان کی انسان دوستی اور معاشرے کے لیے ان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
عظیم پریم جی کی زندگی محنت، لگن اور سماجی ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف کاروباری دنیا میں ہندوستان کا نام بلند کیا بلکہ اپنی دولت کو معاشرے کی بہتری کے لیے وقف کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کا یہ سفر ہر اس شخص کے لیے ایک سبق ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








