اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے معروف رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی متعدد اہم جائیدادوں کی نیلامی کا اعلان کر دیا ہےجو 7 اگست 2025 کو نیب راولپنڈی کے دفتر (جی6,1، اسلام آباد) میں منعقد ہو گی۔
یہ نیلامی اسلام آباد ہائی کورٹ کی اجازت کے بعد ممکن ہوئی ہے جس میں عدالت نے نیب کو بحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں نیلام کرنے کی قانونی منظوری دے دی ہے۔
نیب کے مطابق جو جائیدادیں نیلامی کے لیے پیش کی جا رہی ہیں، وہ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور اسلام آباد کے اہم کمرشل اور تفریحی مراکز پر مشتمل ہیں۔ ان جائیدادوں کی فہرست درج ذیل ہے۔
بحریہ ٹاؤن کارپوریٹ آفس ٹو، پلاٹ نمبر ڈی سیون، پارک روڈ، فیز ٹو ، راولپنڈی
بحریہ ٹاؤن کارپوریٹ آفس، پلاٹ نمبر ای سیون، پارک روڈ، فیز ٹو، راولپنڈی
روبش مارکیٹ اور لان، بحریہ گارڈن سٹی گالف کورس کے قریب، اسلام آباد
ارینا سنیما، پلاٹ نمبر 984براڈاے، فیز فو، راولپنڈی
بحریہ ٹاؤن انٹرنیشنل اکیڈمی، جیسمن اسٹریٹ و سلور اوکس روڈ، زیرو ولاز I، راولپنڈی
سفاری کلب، پلاٹ نمبر 27، سفاری ولاز، بحریہ ٹاؤن، راولپنڈی
ان جائیدادوں کو حالیہ 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں ہونے والے پلی بارگین معاہدے کے تناظر میں ضبط کیا گیا ہے۔
نیب حکام کے مطابق نیلامی کا عمل مکمل طور پر شفاف طریقے سے انجام دیا جائے گا اور صرف وہی خریدار حصہ لے سکیں گے جو تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے۔
القادر ٹرسٹ کیس دراصل برطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے منتقل شدہ رقوم کی پاکستان واپسی سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض کا نام نمایاں طور پر سامنے آیا۔
اس کیس کے نتیجے میں ملک ریاض نے پلی بارگین کے تحت بعض اثاثوں کو ریاست کے حوالے کیا، جن میں سے اب چند اہم جائیدادیں نیلام کی جا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








