پاکستان حالیہ برسوں میں شدید بارشوں، گلیشیرز پگھلنے اور غیر منصوبہ بندی شدہ تعمیرات کے باعث بار بار تباہ کن سیلابوں کا شکار ہورہا ہے۔
2022 کے بعد 2025 کی بارشوں اور گلیشیر لیک آؤٹ برسٹ نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ سیلابی خطرات اب محض وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل قومی چیلنج بن چکے ہیں۔
حالیہ بارشوں اور گلیشیرز پگھلنے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں ہزاروں گھر تباہ، سیکڑوں اسکول متاثر اور درجنوں پل و سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ صحت کے مسائل جیسے ملیریا، جلدی امراض اور سانپ کے کاٹنے کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان کو سیلاب سے بچانے کے لیے درج ذیل حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے جیسا کہ پاکستان کی زمین پر جنگلات صرف 5اعشاریہ 23 فیصد رہ گئے ہیں۔ درختوں کی کٹائی اور غیر مؤثر جنگلاتی پالیسیوں نے زمین کو ننگا اور کٹاؤ کے لیے کمزور کردیا ہے۔
بڑے پیمانے پر درختوں خصوصاً یوکلپٹس اور مینگروز کی شجرکاری بارش اور طوفانی پانی کو جذب کرنے میں مددگار ہوگی۔ مینگروز اکیلے ہی 39 فیصد بارش کا پانی روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
موجودہ بڑے ذخائر تربیلا اور منگلا نے 2010 جیسے بڑے سیلابوں کے اثرات کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ مگر ملک کو مزید چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم درکار ہیں تاکہ بارش کا پانی ذخیرہ ہو اور زرعی و شہری ضروریات پوری کی جاسکیں۔
ریڈار سسٹم، آٹومیٹک ویڈر اسٹیشنز اور کمیونٹی لیول پر سائرن وارننگ سسٹم قائم کیے جائیں تاکہ دیہی و پہاڑی علاقوں کے عوام کو بروقت اطلاع دی جاسکے۔
کراچی، سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ برساتی نالوں کی صفائی، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی، اور کوڑا کرکٹ کے مؤثر انتظام سے بارش کے پانی کو تباہی میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
انڈیا کے ساتھ دریاؤں کے پانی کی شراکت داری میں ڈیٹا کا تبادلہ اور شفاف معاہدے سیلابی خطرات کم کر سکتے ہیں۔
اسی طرح اقوامِ متحدہ کے تحت قائم لوس اینڈ ڈیمیج فنڈ اور دیگر کلائمٹ فنانس ذرائع سے پاکستان کو اپنے نقصانات کی تلافی اور مستقبل کی تیاری کے لیے فنڈز لینے چاہئیں۔
سیالکوٹ اور دیگر علاقوں میں مقامی رضا کار کشتیوں کے ذریعے خوراک اور امداد پہنچا رہے ہیں۔
ایسے اقدامات کو سرکاری سرپرستی اور تربیت کے ساتھ منظم کرنا ضروری ہے۔ دیہات میں کاشتکاروں کو خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کی تکنیک اور متبادل روزگار فراہم کیا جائے۔
دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب 200 فٹ تک تعمیرات پر پابندی عائد کر کے سختی سے عمل کرایا جائے۔ بصورت دیگر ہر سال جان و مال کے بڑے نقصانات ہوتے رہیں گے۔
پاکستان کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے صرف ڈیمز بنانا کافی نہیں ہوگا۔ شجرکاری، جدید ٹیکنالوجی، شہری منصوبہ بندی، صحت و تعلیم کی بحالی، اور بین الاقوامی معاونت سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سیلابی خطرات مستقبل میں مزید بڑھیں گے، اس لیے آج کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے لیے تحفظ یا تباہی کا سبب بنیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں