میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم کو 4 نومبر 2025 کو میکسیکو سٹی کے تاریخی مرکز میں عوام سے ملاقات کے دوران ایک نشے میں دھت شخص نے ہراسانی کا نشانہ بنایا، واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک شخص صدر کے پیچھے سے آیا، ان کے کندھے پر بازو رکھا اور مبینہ طور پر ان کے جسم کو چھونے کے ساتھ ساتھ گردن پر بوسہ دینے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود سرکاری اہلکار نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اس شخص کو صدر سے دور کر دیا۔
ابتدا میں صدر شین باؤم نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کے ہاتھ پیچھے ہٹائے اور نرم لہجے میں کہا کہ فکر نہ کرو اور پھر عوام سے ملاقات جاری رکھی۔
بعد ازاں انہوں نے ویڈیو دیکھنے کے بعد بیان دیا کہ انہیں اس وقت اس واقعے کی سنگینی کا مکمل اندازہ نہیں ہوا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم کی شناخت 33 سالہ یوریل ریویرا مارٹینیز کے طور پر ہوئی ہے، جسے اسی روز گرفتار کر لیا گیا۔
صدر شین باؤم نے اگلے دن باضابطہ طور پر اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور کہا کہ اگر صدر کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، تو عام خواتین کے ساتھ کیا نہیں ہو سکتا؟ اطلاعات کے مطابق ملزم نے اسی دن دو دیگر خواتین کو بھی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔
یہ واقعہ میکسیکو میں جنسی ہراسانی اور خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف قومی سطح پر بیداری کی نئی لہر کا باعث بن گیا ہے۔
ملک کی پہلی خاتون صدر صدر شین باؤم نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام ریاستوں میں جنسی ہراسانی کو سنگین فوجداری جرم قرار دینے کے لیے قانونی اصلاحات متعارف کرائیں گی۔
واقعہ کے بعد صدارتی سیکورٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ شین باؤم نے اپنے پیشرو کی طرح عوام کے قریب رہنے کے لیے سیکورٹی کو کم سے کم رکھنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








