اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل انتظامیہ کو سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلاء سے ملاقاتوں کے آن لائن اہتمام کا حکم دے دیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا گیا کہ جب تک سکیورٹی خدشات کا خاتمہ نہ ہوجائے، عمران خان سے آن لائن ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے۔
ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل انتظامیہ سے جمعہ کے روزتک احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر جیل میں آن لائن میٹنگ نہں ہوسکتی تو جیل انتظامیہ اس کا بندوبست کرے اور ضرورت پڑنے پر ٹیلی کام کمپنی کو طلب کرکے بیانِ حلفی کا حکم دیاجاسکتا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ بانی پی ٹی آئی کیلئے آن لائن میٹنگ کی جگہ پر انٹرنیٹ تک مطلوبہ اسپیڈ کی حامل رسائی فراہم کرے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کا اعتراض تھا کہ جیل رولز میں آن لائن میٹنگ کی اجازت نہیں، لیکن یہ دلیل بے وزن ہے، سب جانتے ہیں جیل رولز 1978 میں بنے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ 1978ء میں ویڈیو میٹنگ کی سہولیات نہیں تھیں، نہ ہی کسی کو اس کی ضرورت تھی، اس لیے جیل انتظامیہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے آن لائن میٹنگ میں سیاسی گفتگو پر اعتراض کو بھی بے بنیاد قرار دے دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








