اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی ذمہ داریاں انجام دینے سے روک دیا ہے۔
یہ اقدام ان کی بطور جج تعیناتی کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کے بعد کیا گیا۔ منگل کو یہ فیصلہ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جاری کیا۔
عدالت کے حکم نامے کے مطابق جسٹس جہانگیری سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے فیصلے تک عدالتی امور انجام نہیں دے سکیں گے۔
عدالت نے کیس کی کارروائی میں معاونت کے لیے سینئر وکلاء بیرسٹر ظفراللہ خان اور اشتر علی اوصاف کو مقرر کیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل کو بھی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے بارے میں اپنی رائے دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئی ایچ سی کے ڈویژن بینچ نے آج کی سماعت کا تحریری حکم بھی جاری کیا جس میں جسٹس جہانگیری کو عدالتی ذمہ داریوں سے روکنے کا فیصلہ باضابطہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔
جج کیخلاف ہی کیس کردیا! ایمان مزاری اور چیف جسٹس کے درمیان تنازعہ کی وجہ جانتے ہیں؟
یہ تنازعہ جولائی میں اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک مبینہ خط گردش کرنے لگا جو کراچی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کی جانب سے جاری بتایا گیا تھا اور اس میں جسٹس جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے جسٹس جہانگیری کی 1991 میں حاصل کردہ ایل ایل بی ڈگری اور انرولمنٹ نمبر 5968 کو منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سنڈیکیٹ کے رکن اور تعلیمی ماہر ڈاکٹر ریاض احمد کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جسے مبینہ طور پر اجلاس میں ان کی شرکت روکنے کی کوشش قرار دیا گیا۔ شام کے وقت انہیں اس وقت رہا کیا گیا جب اجلاس میں جسٹس جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








