اسلام آباد: پاکستان محکمہ موسمیات نے 20 ستمبر سے دسمبر 2025 کے اوائل تک ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کے لیے ہائی رسک الرٹ جاری کیا ہے جس کی بنیادی وجوہات سازگار موسمی حالات اور ملک بھر میں سیلابی صورتحال کو قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ڈینگی بخار گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں بار بار صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بنتا رہا ہے، خاص طور پر مون سون کے بعد کے موسم میں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
سائنسی تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 26 سے 29 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان 3 سے 5 ہفتے برقرار رہے، نمی 60 فیصد سے زیادہ ہو اور بارش 27 ملی میٹر سے زائد ہو جائے تو تین ہفتوں کے اندر ڈینگی کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
کراچی کی ہلکی بارش کب طوفان بنے گی؟ جانیں کہاں کہاں برکھا برس رہا ہے
ڈینگی کے مچھر عموماً سورج طلوع ہونے کے دو گھنٹے بعد اور غروب سے دو گھنٹے قبل سب سے زیادہ سرگرم ہوتے ہیں جبکہ ان کی افزائش اس وقت کمزور پڑتی ہے جب درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے گر جائے۔
رواں سال طویل مون سون بارشوں، دریاؤں کے کنارے ٹوٹنے اور ذخائر سے پانی کے اخراج نے پنجاب اور سندھ کے بڑے حصوں کو ڈبو دیا ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو کر عارضی شیلٹرز میں مقیم ہیں۔ یہ حالات ڈینگی کے پھیلاؤ کے خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کھڑے پانی، زیادہ نمی اور موزوں درجہ حرارت کے امتزاج نے ڈینگی کے لیے انتہائی سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے، جو 20 ستمبر کے بعد شدت اختیار کرسکتا ہے۔
یہ خطرہ خاص طور پر کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی، پشاور، سکھر، حیدرآباد اور ملتان سمیت ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں، بشمول صحت کے محکموں، ضلعی انتظامیہ اور عوام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر احتیاطی اقدامات اپنائیں۔
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ماحولیاتی و موسمیاتی ڈیٹا کی مسلسل نگرانی کریں، بڑے پیمانے پر فیومیگیشن کریں، لاروا مار اسپرے کریں اور سیلاب زدہ علاقوں سے کھڑا پانی صاف کریں۔
سروائیکل کینسر کی ویکسینیشن: کیا یہ واقعی خطرناک اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش ہے؟
عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ گھروں کے اردگرد بارش کا پانی جمع ہونے والے برتن یا ٹینکیاں خالی کریں یا ڈھانپ کر رکھیں، مچھر بھگانے والی ادویات، جالیاں اور کوائل استعمال کریں، خصوصاً صبح سویرے اور شام کے اوقات میں۔
لوگوں کو لمبی آستینوں والے کپڑے پہننے، دروازے اور کھڑکیاں بند یا جالیوں سے ڈھکنے اور سیلاب زدہ یا عارضی شیلٹرز میں صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ خیموں کے اردگرد پانی جمع ہونے سے بچنے اور صاف یا ابلا ہوا پانی استعمال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








