روشن مستقبل کیلئے غیر قانونی راستہ آپ کی زندگی جہنم بنا سکتا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

رپورٹر: جنید شاہ

آنکھوں میں روشن مستقبل کے سہانے سپنے سجا کر یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کرنا وبا کی طرح دوسرے ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے نوجوانوں کا بھی منتہائے مقصود بنا ہوا ہے اور اس خوابناک مقصد کے حصول کی کوشش میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نتائج اور انجام سے بے خبر ہر سال انسانی اسمگلروں اور ان دیکھے مصائب و مشکلات کا چارہ بنتی ہے۔

اکرام اللہ کی سفر کہانی
   ہم نے ایسے ہی ایک نوجوان سے بات کرکے اس “سفرِ جان نکال” کی تفصیل حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جو سپنوں کے دیس جا اترنے کی چاہ میں خطرات کے کئی سمندر عبور کرکے موت سے کھیلتا ہوا یورپ تو نہیں، مگر یورپ کے “کزن” آسٹریلیا پہنچا۔ 

یہ ہیں کراچی کےعلاقےمیٹروول سائٹ سے تعلق رکھنےوالےاکرام اللہ جو آج سے9سال قبل غیرقانونی طورپرسمندری راستے سےآسٹریلیاپہنچے۔
اکرام اللہ نے 2013میں غیرقانونی طریقے سےآسٹریلیاجانےکیلئے 45دنوں پر مشتمل تھکا دینے والے طویل سفرکا انتخاب کیا۔


اس سفرکاآغاز14مئی 2013کواکرام اللہ نےلاہورشہرسےبذریعہ ہوائی جہاز بنکاک کی طرف شروع کیااورپھرملائیشیاکوالالمپورمیں 6دن گزارے۔ ملائیشیا سے وہ انڈونیشیا پہنچے، جہاں جکارتامیں 30دن گزارنےکےبعدبالآخررات کی تاریکی میں اکرام اللہ سمیت درجنوں ان جیسے دیگر افراد کشتی کی مدد سےآسٹریلیا کے سمندر کے کالے پانیوں میں داخل ہوئے۔ اکرام اللہ 8بہن بھائیوں میں چھٹےنمبرپرہیں، اس غیرقانونی سفرکیلئے انہوں نے 9 لاکھ روپےکی رقم مختلف ایجنٹوں کواداکی۔ 
بیرون ملک جانےکاشوق زمانہ طالب علمی سےتھا
اکرام اللہ نےبتایاکہ انٹرکرنےکےبعد سے ہی ان کو باہرجانےکاشوق تھا،شروع میں اسٹوڈنٹ ویزےپراپلائی کیالیکن ناکامی ہوئی،پھرکچھ دوستوں نےکہاکہ غیرقانونی طورپرچلتےہیں، چنانچہ ہم دودوستوں نے اس مقصد کیلئے کراچی سےلاہورکارخ کیا۔ ہم نےایجنٹ کوپاسپورٹ دیے،40دن بعدویزےلگے،پہلےتھائی لینڈ،پھرملائیشیا پہنچے۔

انکاکہناتھاکہ 26جون 2013کو ملائیشیا بگوڑسےگاڑی میں بیٹھے،مزید6افرادپارہ چنارکےملے،وہاں سےانڈونیشیاپہنچےجہاں ایک بنگلہ میں ہم 45لوگ ٹھہرائے گئے،جو سب پاکستانی تھے۔

اکرام اللہ کہتےہیں ہمیں کوئٹہ پارہ چنارکےہزارہ ایجنٹ لیکرگئے، ایجنٹ نے آسٹریلیا پہنچانے کے 9 ہزارڈالرمجھ سےلیے،لیکن ذمہ داری کسی چیزکی وہ نہیں لیتے۔
انہوں نےکہاکہ انڈونیشیاپہنچ کر اپنی مرضی سے نئے ایجنٹ کےساتھ اگلا سفر شروع کیا۔ یہاں ابتدا میں ایک دوایجنٹوں نےدھوکہ دیا،پھرہزارہ کاایک ایجنٹ ملا، جس نےہمیں 6دن کےاندرآسٹریلیا پہنچا دیا۔
اکرام کہتےہیں اس سفرمیں خطرہ صرف پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے  کاہوتاہے۔ پانی میں توصرف ایک ہی خطرہ ہوتاہےوہ موت کا ہے۔
اکرام اللہ نےسفرکی داستان سناتےہوئےآبدیدہ ہوکربتایاکہ مشکل ترین وقت اس پر خطر سفر میں وہ تھا، جب بیچ سمندر میں کشتی خراب ہوگئی۔ خراب کشتی کئی گھنٹےکھلے سمندرمیں لہروں کی زدمیں تھی
اکرام کہتےہیں ہم نے اس وقت تین دن،تین راتیں سمندرمیں گزاری چونکہ 24گھنٹےکاراستہ تھاجو72گھنٹوں میں مکمل ہوا۔اس موقع پر آسٹریلیا بارڈرمنیجمنٹ نےتمام مسافروں کوعالمی سمندری پانیوں سےریسکیوکرکےمحفوظ مقام پرمنتقل کردیاتھا۔

انہوں نےکہاکہ غیر قانونی راستے سے آسٹریلیا پہنچنے والے زیادہ تر لوگ اپنی شناخت چھپاتے ہیں، لیکن ہم نےنہیں چھپائی،میراکیس پراسس میں تھا، پاسپورٹ کیلئےاپلائی کیاتوپاکستانی حکومت اورایف آئی اےنے جانچ پڑتال میں ایک سال کاعرصہ لگا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ مجبوری سےجاتےہیں، کوئی اپنی خوشی سے خطرات مول لیکر نہیں جاتا، کسی کوسیاسی مسئلہ ہوتاہے،پارہ چنارمیں زیادہ ترلوگ کہتےتھےمذہبی مسئلہ ہے،کچھ لوگ پیسہ کمانےجاتےہیں،ہربندہ مجبوری سےجاتاہے۔

پچھتاوا
اکرام نے آسٹریلیامیں 10برس گزارے، اس دوران اکرام اللہ کےوالدبھی فوت ہوئےاوروہ شدید خواہش اور کوشش کے باوجود والد کے جنازے کو کاندھا دینےپاکستان نہیں آسکے۔ اس دکھ نےکئی سالوں بعداکرام اللہ کوآخرکار قانونی طریقے سے اپنےوطن واپس آنےپرمجبورکردیا۔
اب پاکستان میں اکرام اللہ کی شادی ہوچکی ہےوہ ہنسی خوشی زندگی گزاررہےہیں۔ اکرام اللہ اب تمام نوجوانوں سےالتجاکرتےہیں کہ خدارا غیرقانونی طورپربیرون ملک کاسفر ہرگز نہ کریں۔
شناخت مت کھوئیں

 اکرام اللہ کہتےہیں کئی سال بیرون گزارنےکےباوجودمجھےاپنےملک پاکستان سےپیارہےاورمجھےمیری پاکستانی ہونےکی شناخت بھی مل چکی ہے،اگرکوئی بیرون ملک جاناچاہتاہےتواپنی شناخت مت کھوئیں۔

اتھارٹیز کا موقف

ایف آئی اے حکام کے مطابق 2021 میں ان کے ادارے کو اس حوالے سے مجموعی طور پر تین سو 78 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے تین سو 28 پر تحقیقاتی کارروائی کی جا چکی ہے۔

کراچی میں متعین وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسدادِ انسانی سمگلنگ سیل کےنمائندہ کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے والے ایجنٹ انہیں راستے میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں سچ نہیں بتاتے۔ اس لیے، ان کے مطابق ان میں سے زیادہ تر کو علم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں یورپ جانے کے لیے کس قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگرچہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق کوئی سرکاری اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں،لیکن ایک اندازےکےمطابق پاکستان سے ہرسال تقریباً 3لاکھ افراد اسمگل کیے جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے قوانین یعنی پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 اور پریوینشن آف سمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018 نہ تو کوئی مناسب طریقہ کار پیش کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ سرکاری اقدامات واضح طور پر انسانی سمگلنگ کی روک تھام میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ اس معاملے پر پاکستانی اور یورپی حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے والے ایک غیرسرکاری ادارے سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پرزنرز ایڈ (شارپ) کے چیف ایگزیکٹو مدثر جاوید کے مطابق اس ناکامی کی وجہ انسانی سمگلروں کا باہمی ربط اور اثرورسوخ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر قانونی طریقے سے پاکستانیوں کو دوسرے ملکوں میں پہنچانے والے ایجنٹ “ایک مافیا کی شکل میں کام کرتے ہیں اس لیے پاکستان، ایران، ترکی، یونان اور دیگر ممالک میں ان کا ایک مربوط نیٹ ورک موجود ہوتا ہے”۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے ملنے والی اطلاعات کی وجہ سے “اول تو یہ لوگ کبھی پکڑے ہی نہیں جاتے اور اگر کوئی سرکاری ادارہ ان پر ہاتھ ڈال ہی دے تو وہ اپنے تعلقات اور پیسے کے بل بوتے پر کڑی سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں”۔

انٹرپول (بین الاقوامی پولیس برائے جرائم)

رواں سال 2021جولائی کے دوران انٹرپول (بین الاقوامی پولیس برائے جرائم) کی روک تھام نے دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث 286 جرائم پیشہ گروہوں کو گرفتار کیاتھا۔تقریباً 430 انسانی اسمگلنگ کے متاثرین اور پاکستان سمیت مختلف ممالک سے آنے والے 4ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو بھی بچایاگیا۔

پاکستان ٹیئر 2 واچ لسٹ سےباہر
خوش آئندبات یہ بھی ہےکہ امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنی سالانہ ٹریفکنگ اِن پرسن رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی پر نظر ثانی کرنے کے بعد اسے ٹیئر 2 واچ لسٹ سے نکال دیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے اور موجودہ کاوشیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان یہ اہداف بھی حاصل کرلے گا اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے کم سے کم معیار تک پہنچ جائے گا۔

خیال رہے کہ انسانی اسمگلنگ کی درجہ 2 واچ لسٹ وہ ممالک ہوتے ہیں جن پر انسداد انسانی اسمگلنگ میں احکامات کی عدم تعمیل اور دیرپا کارکردگی پر بہ صرف پابندی لگائی جاسکتی ہے بلکہ امریکی اور عالمی امداد کی فراہمی بھی مشروط کی جا سکتی ہے۔ پاکستان 2015 سے 2017 میں انسانی اسمگلنگ کی واچ لسٹ کے 3 درجے میں رہا، 2018 میں 3 سے درجہ 2 میں اپ گریڈ کیا گیا، 2019 میں یہی درجہ برقرار رہا تاہم 2020 میں تنزلی ہوگئی جو 2021 میں بھی رہی۔


اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
صرف یونان میں 60 ہزار سے زیادہ ایسے غیرقانونی پاکستانی تارکینِ وطن موجود ہیں۔ یہ انکشاف اِس سال سات فروری کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے یونان کے ایک سرکاری وفد نے اُس وقت کے سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے وزیر ایوب آفریدی کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا تھا۔ اِس وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ ان پاکستانیوں کی اکثریت ایران اور ترکی کے راستے ان کے ملک میں پہنچی تھی۔
ایڈیٹرکی رائے

غیر قانونی طور پر دوسرے ملکوں کا سفر انتہائی دشوار گزار، پر خطر ہونے کے باعث قدم قدم ان دیکھے اور غیر متوقع مشکلات سے بھرپور ہوتا ہے اور متعلقہ ملک پہنچنے کے بعد بھی ہزار طرح کے مسائل سر اٹھائے گھیرے رہتے ہیں۔ اس سفر میں ہر سال دنیا بھر میں سینکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،اس لیے نوجوانوں کو امیر کبیر، کامیاب اور دولت مند وغیرہ بننے کیلئے شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے کے بجائے قانونی اور پراپر طریقے سے محنت کی ضرورت ہے اور اسی میں عافیت کے ساتھ ملک کی نیک نامی بھی ہے۔

Related Posts