آئی ایم ایف سے مذاکرات کا مخمصہ

تازہ ترین

تازہ ترین

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی بہتر فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے 9ویں جائزے پر مذاکرات مزید تاخیر کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے اپنے وفد کی اسلام آباد آمد کو ضروری ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ میکرو اکنامک فریم ورک کو حتمی شکل دینے سے مشروط کردیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین مذاکرات کا شیڈول تبدیل کردیا گیا ہے تاہم مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کو ختم نہیں کیا گیا، تاہم کچھ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں جن میں پاکستان میں سیلاب کا ذکر سامنے آیا۔

وفاقی حکومت تاحال پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے تمام تر نقصانات کا تخمینہ لگانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ ماہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر عالمی بینک کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد مذاکرات کی تشکیل دوبارہ کی گئی۔

تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں غیر ضروری طول سے ڈیفالٹ کے بڑھتے ہوئے خدشات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، سو ضروری ہے کہ حکومت تاخیر کا سبب بننے والی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرے۔

بنیادی طور پر رواں مالی سال کیلئے سیلاب سے متعلقہ مالیاتی ضروریات کے بارے میں وضاحت کا فقدان پایا جاتا ہے اور درآمدی کنٹرول کے نتیجے میں آمدن کی کمی بھی معیشت کیلئے مسائل جنم دے رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے سے متعلق کچھ مسائل کا حل کیا جانا بھی ضروری ہے۔

جمعرات کے روز وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے پاکستان کیلئے مشن چیف ناتھن پورٹر سے آن لائن ملاقات کی اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے ساتھ  ہونے والی پیشرفت بالخصوص میکرو اکنامک فریم ورک پر سیلاب کے اثرات و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں برس آئی ایم ایف نے ملک کے پسماندہ طبقات، بالخصوص سیلاب زدگان کیلئے ٹارگیٹڈ امداد کو ہمدردی کی نظر سے دیکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ رواں برس سیلاب سے متعلق انسانی امداد کیلئے اخراجات کے تخمینے کے ساتھ ساتھ بحالی کے ترجیحی اخراجات کے تخمینے بھی مرتب کیے جائیں گے۔

اضافی محصولات کی تلاش میں سرگرداں پاکستانی حکومت مالیاتی شعبے اور اسٹیٹ بینک کے منافعے سے زائد آمدنی کی متلاشی تھی تاہم اس ضمن میں کوئی کامیابی نہ ہوسکی جو معاشی اعتبار سے درست نہیں۔ پاکستان ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کے ہدف سے جی ڈی پی کے 0.8 فیصد پیچھے تھا۔ مالیاتی شعبے کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف لیکویڈیٹی بڑھانے اور مالیاتی خسارے میں اضافے سے بچنے کیلئے عوام پر مزید ٹیکس لگانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ قیادت وفاقی حکومت کو نئے ٹیکسز کے ذریعے کم از کم 800 ارب روپے کی ضرورت ہے تاہم معیشت کی زبوں حالی اور سیاسی بدامنی کے باعث حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

 

Related Posts