عمران خان پاک اسرائیل تعلقات کیلئے موزوں ترین شخصیت قرار، حقیقت کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان
(فوٹو: آن لائن)

یہودی جمہوریہ اسرائیل کے مقامی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل نے عمران خان کو پاک اسرائیل تعلقات کو فروغ دینے کیلئے موزوں ترین شخصیت قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل نے سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان  کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔ ٹائمز آف اسرائیل میں شائع آرٹیکل کے مطابق عمران خان کی یہودی خاندان گولڈ اسمتھ سے رشتہ داری اہمیت کی حامل ہے۔

آرٹیکل کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جمائمہ گولڈ اسمتھ سے ازدواجی تعلق ایک حقیقت ہے۔ عمران خان پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کی موجودہ نوعیت بدل سکتے ہیں۔ عمران خان دو طرفہ تعلقات کیلئے موزوں شخصیت ہیں۔

اسرائیلی اخبار میں شائع آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی مدتِ اقتدار میں خارجہ تعلقات میں عملی نقطہ نظر کو اپنایا گیا۔ عمران خان اسرائیل پر پاکستان کے مؤقف پر نظر ثانی کیلئے زیادہ وسیع الذہن اور کھلے ہوسکتے ہیں۔ دی ٹائمز آف اسرائیل نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اور اتحادی ممالک بشمول امریکا ، کینیڈا اور برطانیہ کو یقینی بنانا ہوگا کہ عمران خان کو پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کی آزادی حاصل ہو۔

حقیقت کیا ہے؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین دو طرفہ تعلقات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ پر واضح طور پر لکھا جاتا ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے ہر ملک کے لیے کار آمد ہے جس سے پاکستانی خارجہ پالیسی کا پتہ چلتا ہے۔

ملکی خارجہ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ یہ وہ ملک ہے جس نے مقبوضہ فلسطین پر قبضہ کیا، یہودیوں کی بستیاں بسائیں اور پھر غزہ پر حملے کرکے 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

ایک اورحقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا دور 2018 میں بطور وزیراعظم شروع ہوا اور اس دوران اسرائیل سے تعلقات کو فروغ دینے کی افواہیں تو سامنے آئیں، تاہم عمران خان نے کبھی کھل کر یہ نہیں کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا یا تعلقات کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

Related Posts