حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 40 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے جس سے اس کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے پی ٹی آئی حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، کیونکہ اس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، اس وجہ سے حکومت کو بھی پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا، وزارتِ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، قیمتیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف بڑھ رہی ہیں، کم ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹا، گھی اور چینی سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ کی ماتحت ای سی سی نے وزیر اعظم کے ریلیف پیکیج کے تحت فراہم کی جانے والی سبسڈی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی۔ تین اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں واضح اضافہ ہوا۔ آٹے کا 20 کلو گرام کا تھیلا 950 روپے، گھی 260 روپے فی کلو جبکہ چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو کردی گئی۔ یہ وہ بنیادی اشیائے ضروریہ ہیں جن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے اور عام شہریوں پر اشیائے ضروریہ کی خریدوفروخت کے سلسلے میں بہت زیادہ بوجھ پڑے گا۔
پاکستان کو خالص اشیائے خوردونوش کا درآمد کنندہ قرار دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں جو اب کھانے پینے کی چیزیں بھی درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ مہنگائی میں 11فیصد جبکہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ بنیادی زرعی پیداوار مثال کے طور پر گندم، چینی اور دالیں بھی پاکستان کو درآمد کرنی پڑ رہی ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں گزشتہ 10 سالوں کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی ہیں۔
اگرچہ حکومت ماضی کے حکمرانوں پرشعبۂ زراعت کو ترجیح نہ دینے کا الزام عائد کرتی ہے تاہم مہنگائی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کے ذخائر کا انتظام کرنے کیلئے مناسب زرعی پالیسیاں متعارف کرانا ہوں گی۔ سپلائی چین کا کمزور انفراسٹرکچر، بڑھتی ہوئی آبادی، کرنسی کی قدر میں کمی اور دیگر عوامل اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
طلب اور رسد کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت کو بہتر منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ تحفظِ خوراک کے بڑے چیلنج پر قابو پایا جائے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کی جاسکیں۔ مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی، ہیراپھیری اور ذخیرہ اندوزی کا مقابلہ بے حد اہم ہے جبکہ پاکستان کو زراعت کے شعبے پر از سر نو توجہ دینا ہوگی۔ یہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے تمام تر دعوے جھوٹ ثابت ہوں گے۔