رواں برس 14اگست کے روز یعنی آج ہم اپنا 76واں جشنِ ازادی روایتی جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں، یہ الگ بات کہ معاشی مسائل اور سیاسی بحران کے اثرات ہمارے چہروں سے عیاں ہوچکے ہیں۔
دراصل پاکستانی قوم اس وقت ریکارڈ توڑ مہنگائی سے دوچار ہے اور کسی روشن مستقبل کے امکانات مدھم ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ برس بھی پاکستان میں سیاسی بحران، معاشی بحران اور تباہ کن سیلاب نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔
سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا اور اب ملک کمر توڑ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، غیر یقینی حد تک کم زرِ مبادلہ ذخائر اور کثیر الجہتی قرض ادائیگیوں کے بحران سے نمٹنے میں مصروف ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے مسائل کی طویل المدتی جڑیں، سیاسی عدم استحکام کی تشکیل اور مشکلات سے نمٹنے کیلئے کون سی پالیسی اپنا چکا ہے جو آگے چل کر ان مسائل کے حل میں ممد و معاون ثابت ہوسکے؟ سبکدوش ہونے والی حکومت بھی صورتحال سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی اور قلیل مدتی امداد فراہم کرکے اقتدار چھوڑ دیا۔
طویل معاشی اور سیاسی بحران کے باعث بہت سے پاکستانی ملک سے مایوس ہو کر بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صورت میں ملک چھوڑ گئے تاکہ ان کا مستقبل روشن ہوسکے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 2022 میں 8لاکھ افراد نے پاکستان چھوڑ دیا۔
رواں برس ملک چھوڑ جانے والوں کی تعداد کا تخمینہ 8 لاکھ سے بھی زائد لگایا گیا ہے۔ بہت سے لوگ غیر قانونی ذرائع سے بھی سرحد پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں جان کی بازی ہار بھی جاتے ہیں اور اسی قسم کے واقعات میں یونان کشتی حادثہ بھی شامل ہے۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ نوجوانانِ ملت نے اپنے ملک پر اعتماد کم کردیا جو بے روزگاری اور کم تنخواہ دینے والی ملازمتوں کے باعث مایوس ہوچکے ہیں جس کا بہترین حل انہیں غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنے میں نظر آتا ہے جس کیلئے وہ جان کی بازی لگانے سے بھی باز نہیں آتے۔
ضروری ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو، ملازمتیں پیدا کی جائیں اور مہنگائی کم کی جائے تاکہ لوگ آزادی کے حقیقی معانی کو پا سکیں جبکہ پاکستان کرۂ ارض کے نقشے پر کوئی نیا ملک نہیں ہے تاہم قوم نے گزشتہ پون صدی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں تو پوری قوم انتشار کا شکار ہو کر رہ گئی ہے جبکہ پڑوسی ممالک مثلاً بھارت اور بنگلہ دیش میں مختلف شعبہ جات میں ترقی کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ ہم درست سمت میں نہ جانے کی وجوہات سمجھنے میں ناکام ہیں جو ہمیں ترقی کی راہ پر لے جاسکتی ہیں۔
جشنِ آزادی کے موقعے پر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستانی ایک قابلِ فخر قوم ہیں تاہم پالیسی سازوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو مزید ٹھوس کاوشوں کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے نوجوان مایوس نہ ہوں اور امید کی روشنی کے ساتھ نت نئی منازل کی جانب گامزن ہوں تاکہ ہماری قوم کا مستقبل خوشگوار ہوسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں