پاکستان کا 73واں یوم آزادی

تازہ ترین

تازہ ترین

آج پوری قوم پاکستان کا 73 واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے، آج پاکستان کے قیام کو 73 سال مکمل ہوگئے ہیں، آج ملک بھر میں جشن آزادی کی تقریبات منعقد کی جائینگی اور ملک سے وفاداری کا عہد کیا جائیگا ۔تمام چھوٹے بڑے شہریوں، قصبوں اور دیہاتوں میں آزادی کا جشن منایا جائیگا ۔

آج کا دن محض آزادی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کا دن نہیں ہے بلکہ آج کا دن ہمیں  یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی دنیا کی کتنی بڑی نعمت ہے، پاکستان کو آزاد ہوئے 73 برس ہوگئے ہیں اور پاکستان میں بسنے والے مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقوام آزادی کے ساتھ رہتی ہیں ۔

پاکستان میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو ناصرف مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہےبلکہ حکومت کی جانب سے تمام اقوام کیلئے ان کے تہواروں  پربھرپور سیکورٹی اور دیگر اقدامات بھی کئے جاتے ہیں۔

آزادی کا دن دن منانے کا مقصد اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ ہم اپنے تن، من ، دھن سے ہر طرح ارض پاک پاکستان کی حفاظت کرینگے کیونکہ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتیں تاریخ میں ان کا نام کبھی یاد نہیں رکھا جاتا ۔

پاکستان کے برعکس ہندوستان کی طرف نظر ڈالیں تو وہاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے علاوہ خود ہندوؤں کو بھی بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں۔

ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں پر عرصہ دراز تنگ کردیا گیا ہے یوں تو بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر کئی دہائیوں سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے لیکن بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد نریندر مودی کی قیادت میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی نارواسلوک کیا جارہا ہے۔

بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے علاوہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہریوں کو پرایا کردیا ہے، متنازعہ شہریت ایکٹ کے تحت بھارت میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں۔ کئی نسلوں سے بھارت میں مقیم مسلمانوں کیلئے اپنی شہریت ثابت کرنا مشکل ہوچکا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے قبل یہ بات واضح کردی تھی کہ ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں اور ان کا رہن سہن و تہذیب تمدن بالکل مختلف ہے اور یہ دونوں قومیں ساتھ نہیں رہ سکتیں  اس لئے علیحدہ مسلم ریاست کا قیام ناگزیر ہے اور پاکستان کے قیام کو 73 سال گزرنے کے بعد بھی ان کی یہ باتیں روز روشن کی طرح واضح ہیں اور بھارت کا ہر اقدام دوقومی نظریہ کو مزید تقویت دیتا ہے۔

ہمیں یہ آزادی طشتری میں رکھ کر نہیں ملی بلکہ اس آزادی کی نعمت کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے آباؤ اجداد نے لاتعداد قربانیاں دیں، کئی بہنوں نے اپنے سہاگ اجاڑے، کئی ماؤں کے لعل ان جدا ہوئے اور کئی بہنوں نے اس آزاد مملکت کیلئے اپنی عصمتیں  لٹائیں تب جاکر آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

آج ہمیں یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ارض پاک پاکستان کی حفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے بلکہ اپنے پیارے وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے۔

Related Posts