بھارت کے انسانیت سوز ظلم و ستم اور عالمی قوانین کی بے حرمتی

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت کا سیکولر ریاست کا تشخص وقت کے ساتھ ساتھ دھندلا ہوتے ہوتے بری طرح مسخ ہوچکا ہے، ہندوستان کے اکابرین نے سیکولر ریاست بنانے کیلئے آئین میں بھارت کو سیکولر اسٹیٹ قرار دیا لیکن نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے سیکولر ریاست ہونے کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے۔

نریندر مودی کی آشیر باد سے آر آیس ایس کا ہندو توا کا ایجنڈا پوری دنیا میں بھارت کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے اور بھارت کے سنجیدہ حلقے خود بھی اس بدلتے منظر نامے سے شدید نالاں ہیں اور مہاتما گاندھی کے پوتے تشار ارون گاندھی بھی نریندر مودی اور آر ایس ایس کی اقلیتوں اور مسلمانوں کیخلاف دشمنی اور کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر دکھی نظر آتے ہیں۔

آر ایس ایس کی مسلمانوں کو جلانے کیلئے لگائی جانے والی آگ مذہبی اقلتوں  کے ساتھ ساتھ بھارتی معاشرے کو بھی بھسم کرتی جارہی ہے، بی بی سی اور دیگر عالمی خبر رساں ادارے تواتر کے ساتھ بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں پر تنگ ہوتے عرصۂ حیات اور انسانیت سوز مظالم پر تفصیلی رپورٹس اور فلمیں بنارہے ہیں لیکن متعصب بھارتی حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے۔

امریکا کے ادارے جہاں بھارت میں ہونے والے غیر انسانی سلوک کو اجاگر کررہے ہیں وہیں امریکی حکومت کی جیوپولیٹیکل مفاد کی خاطر چشم پوشی انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خطے میں امریکا کے مفادات بھارت سے جڑے ہوئے ہیں اور اگر امریکا بھارت کے مظالم پر لب کشائی کرتا ہے تو اس کو بھارت کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں جو امریکی مفاد میں نہیں۔

خطے میں چین کے اثر رسوخ کو روکنے کیلئے امریکا بھارت کی ہر قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظریں چرا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا بین الاقوامی مذہبی آزادی کے حوالے سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹ پر بھی آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں ہے۔

جہاں تک نریندر مودی کی بات ہے تو آر ایس ایس کے حمایت یافتہ مودی نے 2014 میں اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد 2015 میں اپنے مذموم عزائم مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام کے نام پر مندر بناکر ظاہر کردیئے تھے جس کے بعد بھارت میں آر ایس ایس کی شدت پسند سرگرمیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اب یہاں سے صورتحال کی سنگینی کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ بھارتی قوم جس شخص کو اپنا روحانی باپ مانتی ہے، اس مہاتما گاندھی کے قاتل کے نام سے مندر بنانا اور شاہراہ کا نام رکھنامعاشرے کی تقسیم کے مترادف ہے۔

مودی حکومت سے پہلے بھی بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویئے عام تھے لیکن مودی کے دور میں جس طرح آر ایس ایس کے غنڈوں اور دہشت گردوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، ایسا کسی اور دور میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس سے بھارت میں بسنے والے الگ الگ مذاہب کے لوگوں کو کچھ امید کی کرن دکھائی دیتی تھی لیکن آر ایس ایس کے دور میں بھارت میں بسنے والا ہر طبقہ شدید خوف میں مبتلا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آر ایس ایس کے ایجنڈے نے بھارت کو اندر سے بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

بھارتی حکومت کی نفرت انگیز پالیسیوں کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے اور دانشور اور سیکولر طبقے ملک کے بدلتے منظر نامے کی وجہ سے انتہائی مایوسی کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ آر ایس ایس یا مودی حکومت کو ملک میں پھیلی خوف کی فضا سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

قابل تشویش بات تو یہ ہے کہ بھارتی حکومت ریاست میں نفرت انگیز ایجنڈے کے پرچار  کی کھلم کھلا حمایت کررہی ہے اور مہاراشٹر میں درجنوں  اسلام مخالف ریلیاں نکال کر لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں کیخلاف اکسایا جارہا ہے، معصوم ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں، روز مرہ زندگی میں بھی نفرت کا زہر گھولا جارہا ہے اور یہ سب سرکاری سرپرستی میں ہورہا ہے۔

ریاستی ادارے، عدالتیں اور پولیس بھی آلۂ کار بن کر مذہبی اقلیتوں کو کچلنے کیلئے مودی حکومت اور آر ایس ایس کے دست و بازو کا کردار ادا کررہے ہیں اور شرمناک بات تو یہ ہے کہ مہاراشٹر میں اسلام مخالف ریلیوں میں 10 سے 12 ہزار کے قریب پولیس اہلکار شرپسندوں کا ساتھ دینے کیلئے موجود ہیں۔

بھارت میں ہونے والا ظلم صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے افسوس ناک ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاکھوں انسانوں کی دردناک چیخیں بھی اقوام عالم کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کیلئے ناکافی ہیں اور بھارت کی طرف سے عالمی قوانین کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ظلم و بربریت کے شکار مسلمانوں کیلئے پاکستان اکیلا شاید  وہ کام نہیں کرسکتا جو وقت کا تقاضہ ہے لیکن اگر اقوام عالم اور خاص طور پر مسلم امہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ملکر آواز اٹھائیں تو ممکن ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا ضمیر جاگ جائے اور خواب غفلت سے بیداری کے بعد ممکن ہے کہ انہیں بھارت میں انسانیت کی اڑتی دھجیاں نظر آجائیں۔

ماضی میں جنگ و جدل اور بزورِ طاقت معاملات کو حل کرنا شاید ممکن ہو لیکن جدید دور میں تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے اور اس کیلئے سفارت کاری سب سے اہم عنصر ہے۔بھارت میں پھیلے نفرت کے زہر کے اثر ات سے پوری دنیا کو سفارت کاری کے ذریعے آگاہ کیا جائے اور خاص طور پر ان ممالک کے عوام میں بھارت میں انسانیت سوز مظالم کا معاملہ اٹھایا جائے تو بہتر نتائج ممکن ہیں۔

اگر آر ایس ایس اور نریندر مودی کو یہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کو جلانے کیلئے لگائی جانیوالی آگ صرف مسلمانوں کو جلائے گی تو یہ ان کی خام خیالی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ گھر میں لگی یہ آگ اقلیتوں کے علاوہ باقی ملک کے باسیوں تک بھی پہنچ رہی ہے اور اس کی تپش سے ہندو بھی محفوظ نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد یہ آگ جوالا مکھی کی طرح بھارتی معاشرے کو جلاکر بھسم کردے گی۔

عالمی برادری کی خاموشی اورچشم پوشی نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے کیونکہ ڈیڑھ ارب کے قریب آبادی کے ملک میں انتشار سے دنیا بھی محفوظ نہیں رہے گی اور آج انسانیت کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں چرانے والے کل انہی لوگوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہونگے۔

مغربی معاشرے میں عوام کی آواز کو نظر انداز کرنا آسان نہیں اور اس کیلئے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کی آواز بن کر لوگوں کو اپنا دکھ بتایا جائے تاکہ پوری دنیا سے آواز آئے ۔بی بی سی کی دستاویزی فلم کو پوری دنیا میں پھیلایا جائے تاکہ مہذب دنیا کوسیکولر ریاست کے لبادے کے پیچھے چھپے بھارت کا اصلی چہرہ نظر آسکے۔

Related Posts