جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو چین کے غیض و غضب کا سامناہے، چینی فوج نے لداخ کے متنازعہ علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد پیش قدمی کرتے ہوئے 3 کلو میٹر اندر تک رسائی حاصل کر لی ہے، بھارت نے جنگی جنون میں لداخ کے متنازعہ علاقے کانظام بدلنا چاہا اور کشمیر کی طرح پالیسی اپنانی چاہی تو چین نے بھی پیش قدمی کرتے ہوے بھارتی فوجی گرفتار کر لئے۔
وادی گلوان میں پینگونگ جھیل کے نزدیک دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی کے علاوہ لوہے کی راڈ اور ڈنڈوں کا بھی استعمال ہوا تھا۔ اس لڑائی میں دونوں جانب کے فوجی زخمی ہوئے تھے۔اس واقعہ کے بعد لداخ سے دو ہزار کلو میٹر دورشمال مشرقی ریاست سکم میں بھی دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان اسی طرح کا ٹکراؤہوا ۔
پاکستان بھارت اور چین کے درمیان مقبوضہ کشمیر پر سخت تنازعہ موجود ہے جس کے تناظر میں متعدد بار بھارت نے پاکستان پر ناکام حملے بھی کیے۔ اگر اس خطے کا جغرافیائی جائزہ لیا جائے تو لداخ اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث مشہور ہے۔ علاقے پر تبتی ثقافت کی گہری چھاپ ہے ، لداخ کے دو بڑے قصبے لیہہ اور کارگل ہیں۔
لیہہ کی اکثریت بدھ مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ لداخ سے جڑے کارگل کی آبادی شیعہ مسلمان ہے۔ یہاں کے مکینوں نے حال ہی میں لداخ کو مسلم اکثریتی ریاست کشمیر سے علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ علاقہ کیونکہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا بنیادی سبب ہے، اس لیے عالمی سطح پر اسے متنازع علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
لداخ کا کل رقبہ59 ہزار 146 پر محیط ہے اور اس کی کل آبادی 2011کی مردم شماری کے مطابق 289 ، 274نفوس پر مشتمل ہے۔
بنیادی طور پر بھارت چین اور پاکستان کے درمیان بھارت ایسا ملک ہے جو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث چین اور پاکستان دونوں سے ہی جنگ کرنے اور دنیا کا امن برباد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
اس وقت خطہ تنازعات کے باعث تین ممالک میں تقسیم ہے جس میں پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر)، بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ)، اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم علاقہ) کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔
بھارت سیاچن گلیشیر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتاً کم اونچے پہاڑوں پر قابض ہے۔برصغیر کی تقسیم سے پہلے کشمیر ایک الگ آزاد خودمختار ریاست تھی جس پر مہاراجہ کی شخصی حکمرانی تھی اور بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ متنازع علاقہ نہیں کیونکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کابھارت سے الحاق کیا ہوا ہے ۔
پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اوردونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہے۔ 1971 کی جنگ بنگال کی وجہ سے ہوئی تھی۔
تاریخ کا جائزہ لیا جائے توتقسیم ہند سے قبل لداخ بلتستان کا حصہ تھا اور اس کا دارالحکومت اسکردو لداخ کا سرمائی دارالحکومت تھا۔
بھارتی انتہا ء پسندی اور جنگی جنون کو مد نظر رکھتے ہوئے چین نے بھارت کی جانب سے لداخ کا نظام تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت کو لداخ سے نکالنے اور یہاں کی بد ھ مت آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے اگر عسکری پیش قدمی کی ہے تو یہ اس کے لیے ضروی اس لیے بھی تھا کیوں کہ لداخ کے رہائشی جو بدھ مت کے پیرو کار ہیں انہوں نے چین کو تحفظ کے لیے پکارنا شروع کر دیا تھا اور بھارتی تسلط سے نجات دلانے کی متعدد بار اپیل بھی کی تھی کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ بھارتی ہندو انتہاپسند وںکے ساتھ وہ امن اور سکون سے نہیں رہ سکتے۔
بھارت اب ایک دہشت گرد ملک تصور ہونے لگا ہے جو صرف ہندو انتہا پسندوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے تاہم دیگر مذاہم جن میں سر فہرست مسلمان ، سکھ ، عیسائی اور اب بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
کشمیر میں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں 60 سال سے جاری ہیں ۔پورے ہندوستان میں مذکورہ مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو تیسرے درجے کا شہری بنا کر ان پر انسایت سوز مظالم ڈھائے جاتے ہیں، ہندوؤں کےبھارت میں سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں جن کی آبادی بھارت بھر میں 30 کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔
مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز مظالم کو مد نظر رکھتے ہوئے چین نے بد ھ مت کے پیروکار جو لداخ کی بڑی آبادی ہیں انہیں تحفظ دینے کی غرض سے اور بھارتی مظالم سے محفوظ رکھنے کے لیے لداخ پر پیش قدمی کردی ہے۔
چینی پیش قدمی سے بھارت کو سخت ازیت کا سامنا ہے ، کیوں کہ اپنے سابقہ کرتوتوں کے باعث بھارت اقوام متحدہ سے بھی اس معاملے پر رجوع کرنے حالت میں نہیں ہے ۔ وہ پہلے ہی اقوام متحدہ کی کشمیر قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتا آیا ہے ۔
بھارت کشمیر میں طویل کرفیو اور مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے باعث دنیا بھر کی تنقید کی زد میں بھی ہے ، کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکےبھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑا چکا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کی بھارت سے ہمدردی بھی ختم ہو گئی ہے۔
اب دنیا بھارت کو ایک ہندو انتہا پسند ، جابر اور ظالم کے طور پر پہچانتی ہے۔اب اگر وہ اس معاملے کو سلامتی کونسل میں بھی لے جانا چاہے تو چین کے پاس ویٹو طاقت ہے ، وہ بھارتی درخواست یا قرارداد کو ویٹو کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال سکتا ہے ۔
یاد رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک اہم جنگی محاز کارگل پر نہ صرف قبضہ کر لیا تھا بلکہ بھارت کو کشمیر سے بھاگنے کی صورتحال سے دوچار کردیا تھا مگر اس وقت کی پاکستانی سیاسی قیادت نے اپنے اقتدار میں رکاوٹیں پیدا ہوتی دیکھ کرپاکستانی فوج کو کارگل سے واپس بلا لیا تھا ، آج پھر پاکستان کے لیے ایک اچھا موقع ہے ۔
اگر چین لداخ کی طرف سے اور پاکستان کارگل کی طرف سے پیش قدمی کرتا ہے تو دونوں ممالک دونوں سمتوں سے پیش قدمی کرتے ہوئے بھارت کو پورے مقبوضہ کشمیر سے بھاگنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور اس سے چین اور پاکستان دونوں اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔