بھارت کا وہ ساحل جسے آسیب زدہ سمجھا جاتا ہے، علاقہ مکین بھی خوفزدہ

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت کا وہ ساحل جسے آسیب زدہ سمجھا جاتا ہے، علاقہ مکین بھی خوفزدہ
بھارت کا وہ ساحل جسے آسیب زدہ سمجھا جاتا ہے، علاقہ مکین بھی خوفزدہ

کسی چیز کو جاننےکا تجسس ہی سوال پیدا کرتا ہے جس کا جواب تلاش کرتے کرتے انسان حقیقی علم تک جا پہنچتا ہے تاہم تجسس سے بڑھ کر ایک اور چیز انسان کو ہمیشہ سے ہی پریشان کرتی آئی ہے جو اس کا انجانی چیزوں کے متعلق خوف ہے۔

بھارت کے ایک ساحل کو طویل عرصے سے آسیب زدہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں کے علاقہ مکین کسی اور ہی چیز سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ آئیے ساحل کے آسیب اور خوف کے اسباب تلاش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل پر تحقیقات کا اعلان

اگر آپ آن لائن گوگل یا کسی اور سرچ انجن کی مدد سے تلاش کریں تو بھارت کے سب سے زیادہ خوفناک مقامات میں گجرات کے علاقے سورت سے 20 کلومیٹر دور ڈومس کا ساحل ضرور نظر آئے گا۔

حیرت انگیز طور پر اس ساحل کی ریت سیاہ ہے جس سے آفت اور کالے جادو کے متعلق مختلف کہانیوں کو تقویت ملتی ہے تاہم اگر واقعتاً اس جگہ کا دورہ کیا جائے تو ریت پر سمندر کی لہریں خوبصورت لگتی ہیں۔

یہاں موٹر سائیکل کی سواری سے لطف اندوز ہونے والے سیاح اور زیادہ تر مقامی لوگ بھوت کی کہانیوں سے حیران نظر آتے ہیں تاہم ساحل کے آس پاس رہنے والے لوگ کسی انسان کی بنائی ہوئی چیز سے خوف کھاتے ہیں۔

اسی ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو بھائی گورو اور راکی پٹیل آئس کریم کے اسٹالز چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی کسی بھوت کے متعلق نہیں سنا۔ ریت کالی کیوں ہے؟ اس کا کبھی نہیں سوچا۔

بعض کہانیوں میں یہ دعویٰ ضرور سامنے آیا ہے کہ یہ ساحل کبھی شمشان گھاٹ یعنی ہندو مذہب کے ماننے والوں کا قبرستان ہوا کرتا تھا جو اپنی لاشوں کو دفن کرنے کی بجائے آگ لگا کر جلادیتے ہیں۔

کہانیوں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہےکہ لاشوں سے نکلنے والی راکھ کی وجہ سے اس ساحل کی ریت سیاہ ہوگئی۔ ایک شہری کا کہنا ہے کہ میں نے آن لائن ایسی کہانیاں پڑھی ہیں کہ رات کے وقت آوازیں آتی ہیں۔

شہری کا کہنا ہے کہ آن لائن پڑھنے میں آیا کہ رات کو یہاں آنے والے سیاح عجیب و غریب آوازیں سنتے ہیں۔ یہاں کے کتے لوگوں کو رو کر پانی کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ سیاح لاپتہ ہوگئے وغیرہ۔

اپنے خاندان کے ساتھ یہاں رہنے والے آنند کا کہنا ہے کہ یہاں کی زمین میں شاید لوہا اور معدنیات کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے ریت کالی ہو گئی ہے۔ زیادہ تر لوگ ریت کا رنگ جان کر حیران نہیں ہوتے۔

آنند کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ جس چیز سے خوفزدہ ہیں وہ پانی کا بگڑتا ہوا معیار ہے۔ ساحل صنعتوں سے گھرا ہوا ہے۔ فیکٹریوں کے باعث ہرسال مچھلیاں کم ہوجاتی ہیں۔ آبی پرندے شاید سمندر کے آلودہ پانی کے باعث مر جاتے ہیں۔

Related Posts