بھارتی یومِ جمہوریہ بطور یومِ سیاہ

تازہ ترین

تازہ ترین

آج سے 1 روز قبل ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے اپنا قومی یومِ جمہوریہ منایا جو 1950 میں بھارت کے حقیقی آئین کو اپنائے جانے کی یادگار ہے جو کشمیریوں کے نزدیک یومِ سیاہ رہا۔

رواں برس بھارت نے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سخت حفاظتی انتظامات کیے۔ جموں و کشمیر میں یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر منایا گیا اور مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیری عوام نے بھارت کے خلاف مظاہرے بھی کیے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بھارت خطے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ قراردادوں میں اقوامِ متحدہ نے بھارت کو ہدایت کی تھی کہ وہ کشمیری عوام کو حقِ رائے دہی دے کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔

بھارت کو ایک جمہوریت ہونے کے ناطے حقِ رائے دہی کا احترام کرنا اور  جموں و کشمیر کے عوام کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینا چاہئے تاکہ لوگ حقِ رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ ضروری ہے کہ حکومت مظاہرین سے مذاکرات کرے تاکہ مسائل کا حل نکلے۔

ایک طرف تو بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے اور بفرضِ محال اگر یہ دعویٰ مان لیا جائے تو اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔

نوٹ کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان 1947 سے ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ مشعال حسین ملک اور صدرِ آزاد کشمیر جیسے رہنماؤں نے کشمیر کے متعلق بیانات جاری کردئیے۔

بیانات میں کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دے۔ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینا بھارت کے فرائض میں شامل ہے۔

جہاں 26 جنوری بھارت کیلئے جشن کا دن ہے، وہیں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے کے مطالبات کی بھی یاد دہانی ہے۔ ضروری ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے عوام کے مطالبات کو پورا کرے تاکہ خطے میں جاری دیرینہ بحران کا دیرپا حل تلاش کیا جاسکے۔ اگر بھارت اس کیلئے حقیقی اقدامات کرے، تب ہی جمہوریت کا راگ الاپنا بھی درست قرار دیا جاسکے گا۔

 

Related Posts