مسلم صحافی گرفتار کیوں؟ بھارتی پروفیسر نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

مسلم صحافی گرفتار کیوں؟ بھارتی پروفیسر نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا
مسلم صحافی گرفتار کیوں؟ بھارتی پروفیسر نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا

اسٹاک ہوم: مسلمان صحافی کی گرفتاری مودی سرکار کے گلے کا پھندا بن گئی ہے، بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بھارتی میڈیا کی چاپلوسیاں بھی بے نقاب کردیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں مسلم اقلیت کا استحصال زور و شور سے جاری ہے۔ بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے گستاخانہ بیان سامنے لانے والے مسلمان صحافی محمد زبیر کی گرفتاری پر مودی سرکار پر تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

بھارت نے گستاخی کا معاملہ سامنے لانے والا مسلم صحافی گرفتار کر لیا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سویڈن کی اپسالہ یونیورسٹی میں امن و تصادم پر تحقیق کا مضمون پڑھانے والے بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ نئے بھارت میں ایک جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مذہبی جذبات ہوتے ہیں، 20 کروڑ مسلمانوں کے نہیں۔

ٹوئٹر پیغام میں بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئے بھارت میں اگر آپ نفرت پر مبنی تقریر یا قتلِ عام کریں تو آپ تو ہیرو بن جاتے ہیں لیکن اگر کوئی ان واقعات کو رپورٹ کرے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ 

بھارتی میڈیا کی چاپلوسیاں بے نقاب کرتے ہوئے پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ انڈین میڈیا نے 2 روز تک شور مچایا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جرمنی میں جی 7 اجلاس میں شریک ہورہے ہیں، لیکن مودی کو خوش آمدید نہ کہنے والا احتجاج بیان نہیں کیا۔ 

ایک اور ٹوئٹر پیغام میں پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ اگر بھارت میں ایک حقائق کو بے نقاب کرنے والے صحافی محمد زبیر کو ایک پرانے ٹویٹ پر گرفتار کر لیا جاتا ہے تو کسی کو اس پر حیرت کیوں ہو؟ 

گزشتہ روز بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ بھارتی حکومت نے مسلمان صحافی محمد زبیر کو مذہبی جذبات مجروح کرنے پر گرفتار کیا۔ مذہب صرف ان کا ہی ہے اور جذبات بھی ان ہی کے ہیں۔ بھارت میں کوئی محفوظ نہیں۔

Related Posts