ترکی نے پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کی خواہش ظاہر کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

ترکی نے پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کی خواہش ظاہر کردی
ترکی نے پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کی خواہش ظاہر کردی

اسلام آباد: ترکی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کرنے اور تجارت بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور ترکی کے درمیان آئندہ ماہ تجارتی معاہدہ مکمل ہونے جارہا ہے، اسی دوران انقرہ، پاکستان کے موجودہ 3 شہروں سے پروازوں کی تعداد بڑھانے اور فلائٹ آپریشن کے لیے پاکستان کے مزید 2 شہروں کو اپنے روٹ میں شامل کرنے کا خواہاں ہے جبکہ ایک پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی نے لاہور میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے تحت دو طرفہ تجارت 3 برس کے دوران 5 ارب ڈالر ہو جائے گی جو کہ 2021 میں تقریباً ایک ارب ڈالر تھی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں نے رواں ماہ کے شروع میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ ترکی کے دوران دوطرفہ تجارت کو موجودہ ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر تین سال کے دوران 5 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

حکومتی پابندیوں کے سبب ملک کو گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، فلور ملز ایسوسی ایشن

مزید برآں وزیراعظم کا دفتر اور وزارت تجارت فی الحال 5 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے متعلقہ سیاست دانوں، حکام اور معروف تاجروں پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس بنانے میں مصروف ہیں۔

اس کے ساتھ ہی پلاننگ کمیشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور سی پیک اتھارٹی بھی اس بات کا جائزہ لینے کے لیے باہمی رابطے میں رہتے ہوئے مل کر کام کر رہے ہیں کہ ترکی کس طرح سی پیک منصوبے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس مقصد کے لیے وزارتِ خارجہ کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ متعلقہ فورمز پر اِس معاملے پر بات چیت کرے۔

ذرائع کے مطابق ترکش ایئرلائنز نے باضابطہ طور پر پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ 3 موجودہ اسٹیشنوں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے اس کی پروازوں کی فریکوئنسی بڑھانے کی اجازت دے اور 2 مزید اسٹیشنوں سیالکوٹ اور فیصل آباد کو بھی اس کے فلائٹ پورٹ فولیو میں شامل کرے۔

اسی طرح ترکش ایئرلائنز نے پاکستان میں کمائے گئے منافع کو فارن ایکسچینج اکاؤنٹس میں رکھنے اور اسے ترکی واپس بھیجنے کی بھی اجازت مانگی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان آنے والے تجارتی وفد میں ترکی کی بڑی کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے، جن کی قیادت معروف تاجر و سیاست دان برہان کیاترک کریں گے جو کہ لاہور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے گریجویٹ ہیں۔

Related Posts