سویڈن کی یونیورسٹی میں جنگ اور امن کے موضوع پر تعلیم دینے والے بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے لاہور میں جاری جھڑپوں کے تناظر میں سوال کیا ہے کہ پولیس عمران خان کو گرفتار کر رہی ہے یا پھر یہ جنگ ہے؟
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ پاکستان کی پولیس عمران خان کی گرفتاری کیلئے رات گئے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی۔
ملاوی اور موزنبیق میں طوفان فریڈی سے 200افراد ہلاک
ٹوئٹر پیغام میں پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک پر انتھک حملے کیے جارہے ہیں۔ کیا پولیس کسی سابق وزیر اعظم کو گرفتار کرنے آئی ہے یا آپ جنگ لڑ رہے ہیں؟
Pakistan's police continues its relentless attack in the middle of the night on Imran Khan's residence to arrest him. Are they arresting a former prime minister or fighting a war? pic.twitter.com/9Azz9x5E0R
— Ashok (@ashoswai) March 14, 2023
ایک اور ٹوئٹر پیغام میں پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کو میدانِ جنگ بنا دیا گیا۔ پاکستان اب ایک جمہوری ملک ہونے کا ڈرامہ بھی نہیں کرسکتا۔
Imran Khan’s residence has become a war zone – Pakistan doesn’t anymore even pretend to be a democracy! pic.twitter.com/sb17dZAvTy
— Ashok (@ashoswai) March 15, 2023
رات گئے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک اور پیغام میں پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ عمران خان پاکستانی پولیس کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے خود ہی اپنا مذاق بنا لیا ہے۔
Imran Khan is playing with Pakistani police – The regime in Pakistan has turned itself into a joke.
— Ashok (@ashoswai) March 14, 2023
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ اسلاموفوبیا کے خلاف سب سے پہلے آواز عمران خان کے دورِ حکومت میں اٹھائی گئی جس کا مقصد مسلم مخالف قوتوں کی مذمت کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








