پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کےناقابل تردید ثبوت پر مشتمل ایک ڈوزیئر تیار کرلیا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے۔
وزیر خارجہ اور فوجی ترجمان نے بھارت کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے والے اقعات میں سیز فائر کی زیادہ خلاف ورزی ہوئی،دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ایک ‘بدمعاش ریاست بن گیا ہے جس نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
پچھلے کچھ مہینوں کے دوران پشاور اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ دیگرشہروں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسیاں کالعدم تنظیموں بالخصوص بلوچ علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کر رہی ہیں جو مسلح افواج کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد فرار ہو رہے تھے۔ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کی سازش کے لئے استعمال کررہا ہے۔
ہندوستانی سفارتخانے کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ان دہشت گرد گروہوں کی تربیت اور لانچنگ کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ہندوستان نے 87 سے زیادہ کیمپ لگائے ہیں ۔
بھارت کا بنیادی مقصد سی پیک کو سبوتاژ کرنا اور پاکستان میں چینی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھارت نے 60 ملین ڈالر کے فنڈز کے ساتھ ایک عسکری فورس تشکیل دی ہے۔
خطے سے گزرنے والے تمام منصوبوں کی وجہ سے بھارت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک فوجی تعطل کے بعد بھارت چین کے ساتھ اپنے تنازعہ میں الجھا ہوا ہے اور اس وقت سے ہی صورتحال سخت ہے۔
جیسا کہ وزیر خارجہ نے بیان کیا کہ پہلے ہی کافی ثبوت موجود ہیں کہ ہندوستان ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن اب اسے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کے قوانین میں پیشرفت کے باوجود بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوششیں کیں۔ دنیا کو ایکشن لینا چاہئے کہ ہندوستان دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث ہے جس سے علاقائی امن متاثر ہوتا ہے۔
اس ڈوزیئر کو اقوام متحدہ ، او آئی سی اور سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں اوردیگرعالمی تنظیموں کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں ہندوستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی اور مادی کفالت کے ٹھوس شواہد دکھائے جائیں گے۔
عالمی برادری سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خطے میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دہشت گردی کو روکنے کیلئے پاکستان کی مدد کریگی۔
در حقیقت اس کی مذمت جاری کرنے کے بجائے بھارت کو سزا دلوانے کیلئے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
مسلح افواج نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اوراگر دنیا بھارت کیخلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان کو تمام مخالفین کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔