نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے ذات پات پر مبنی ریاستی مردم شماری کے خلاف دی گئی درخواستوں کی سماعت سے انکار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے بہار میں ریاستی حکومت کے ذات پر مبنی مردم شماری منعقد کرانے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے واضح طور پر انکار کردیا۔ درخواست گزاروں کو متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کی ہدایت کردی گئی۔
لاؤڈ اسپیکر پر اذان، بھارت نے 7 مساجد کو جرمانہ کردیا
پبلک انٹرسٹ لٹی گیشن کو پبلسٹی انٹرسٹ لٹی گیشن قرار دیتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ہم یہ ہدایات کیسے جاری کرسکتے ہیں کہ کسی خاص ذات کو کتنا ریزرویشن دیا جاسکتا ہے؟نہ ایسی ہدایات جاری اور نہ ہی ایسی درخواستوں پر غور کرسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے بھارتی درخواست گزاروں کی استدعا کو از خود ہی واپس لی ہوئی تصور کرتے ہوئے خارج کردیا۔ خیال رہے کہ بھارتی ریاست بہار میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کا آغاز رواں ماہ سے ہوچکا ہے۔ 7 جنوری سے شروع ہونے والی مردم شماری 21جنوری تک جاری رہے گی۔
مردم شماری کے خلاف بہار حکومت کے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے فیصلے کے خلاف کم از کم 3 درخواستیں بھارتی سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں، تاہم سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی استدعا کو عوامی مفاد کی بجائے شہرت حاصل کرنے کیلئے اسٹنٹ گردانتےہوئے مستردکردیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








