چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ گزشتہ روز سامنے آیا۔ سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عمران خان پر فردِ جرم آئندہ ماہ عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
عمران خان کی زندگی میں شہرت کی اہمیت اظہر من الشمس ہے جو بطور کپتان قومی کرکٹ ٹیم انہیں حاصل ہونا شروع ہوئی تو اس کا اختتام آج تک دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان کی شہرت بڑھی تو بے جا نہ ہوگا۔
دوسری جانب موجودہ اتحادی حکومت عمران خان پر الزام عائد کرتی نظر آتی ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں جو 2018 سے گزشتہ برس تک جاری رہا جس کے بعد شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا، معاشی بد حالی اپنے عروج پر تھی۔
معاشی بدحالی کس دور میں عروج پر تھی؟ اگر یہ سوال کیا جائے تو آج کسی بھی راہ چلتے مڈل کلاس انسان کی جانب سے اس کا جواب موجودہ حکومت کے حق میں مثبت اور عمران خان کے حق میں منفی آئے گا کیونکہ عمران خان دور کی پالیسیوں سے عوام کو لاکھ اختلاف سہی، اس دور میں بہت سی باتیں موجودہ دور سے مختلف تھیں۔
مثال کے طور پر پیٹرول کی قیمت میں جو یکمشت 35روپے کا اضافہ کیا گیا، عمران خان دور میں اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی، بلکہ احساس پروگرام ہو یا صحت انصاف پروگرام، غریبوں کی فلاح وبہبود کے فقید المثال منصوبے شروع کیے گئے جن میں سے بعض آج تک جاری ہیں۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان پر فردِ جرم عائد کرنے سے قبل یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کو بھی گرفتار کر لیا گیا جو آج کل جوڈیشل ریمانڈ پر حراست میں ہیں۔ عمران خان پر توشہ خانہ میں کرپشن کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
بطور وزیر اعظم عمران خان کے دور کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا، نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے دور میں غریب عوام نے ترقی کی اور امیر سیاستدانوں، خاص طور پر بڑی مچھلیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں ہی نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر اپوزیشن قائدین پیشیاں بھگتتے اور عدالتوں کے چکر تو کاٹتے نظر آئے، تاہم کسی بڑی مچھلی سے اربوں کی کرپشن سے حاصل رقوم مکمل طور پر برآمد نہیں ہوسکیں، اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر عمران خان کے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ ان پر بنائے گئے تمام تر کیسز بے بنیاد تھے۔
آج وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف جائزہ مشن کو شرائط پوری کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہا ہے تاکہ اسے 1ارب 10کروڑ ڈالر قرض کی قسط میسر آسکے اور ڈیفالٹ کا خطرہ جو سر پر منڈلا رہا ہے، وہ کچھ وقت کیلئے ٹل جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی سیاستدان آپس کی بحث و تکرار اور ملکی عدلیہ مفادات پر مبنی فیصلوں کی بجائے انصاف پسندی اور شفافیت پر توجہ دے تاکہ ملکی مسائل کے حل کی کوئی راہ نکل سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں