اسلام آباد: پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور مہنگائی 12.96 فیصد تک بڑھ کر دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران سالانہ مہنگائی، جس کا اندازہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) سے لگایا جاتا ہے، جنوری 2020 کے بعد سب سے بلند سطح پر تھی جبکہ ماہانہ بنیاد پر افراط زر دسمبر کے مقابلے میں 0.39 فیصد تک بڑھی۔
یاد رہے کہ جنوری 2020 میں مہنگائی 14.6 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔رواں مالی سال کے دوران جولائی 2021 سے جنوری 2022 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 10.26 فیصد رہی۔
دوسری جانب اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز لمیٹڈ کے ریسرچ سربراہ فہد رؤف نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گھر کے کرایوں پر نظرثانی جنوری کے لیے مہنگائی کی شرح کو بڑھا دے گی۔
مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافہ ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہوا، جس میں سالانہ بنیاد پر 23.05 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ رہائش اور یوٹیلیٹیز بھی 15.53 فیصد بڑھیں۔دریں اثنا شہری علاقوں میں اشیائے خورونوش کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 13.57 فیصد تک بڑھی جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس میں 1.06 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
اس کے برعکس دیہی علاقوں میں اشیائے خورونوش کی مہنگائی میں قدرے کم اضافہ دیکھا گیا جو سالانہ بنیاد پر 12.01 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 0.23 فیصد بڑھی۔اسی طرح سالانہ بنیادوں پر غیر خورونوش اشیا کی مہنگائی شہری علاقوں میں 12.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 13.9 فیصد تک بڑھ گئی۔
جولائی سے دسمبر 2021 تک چھ ماہ کی اوسط مہنگائی سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 9.81 فیصد ہوگئی۔شہری علاقوں میں جن اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ان میں خوردنی تیل 54.33 فیصد، ویجیٹیبل گھی 474 فیصد، سرسوں کا تیل 46.68 فیصد، دال مسور 41.3 فیصد، پھل 28.35 فیصد، چنا 24.7 فیصد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ گوشت 22.38 فیصد، چکن 17.08 فیصد، دال چنا 15.67 فیصد، پھلیاں 15.37 فیصد، دال ماش 12.46 فیصد اور سبزیوں کی قیمت 11.58 فیصد بڑھی تاہم ٹماٹر کی قیمت میں 41.95 فیصد، دال مونگ 24.69 فیصد، پیاز 4.39 فیصد، مسالہ جات 2.58 فیصد سستے ہوئے۔
اسی طرح دیہی علاقوں میں خوردنی تیل 50.33 فیصد، سرسوں کا تیل 49.73 فیصد، ویجیٹیل گھی 49.27 فیصد، دال مسور 36.22 فیصد، پھل 29.35 فیصد، چنا 29.34 فیصد، گوشت 21.96 فیصد، سبزیاں 18.19 فیصد، چکن 17.17 فیصد، پھلیاں 13.97 فیصد، بیسن 12.54 فیصد، دال چنا 11.63 فیصد اور دودھ 10.22 فیصد مہنگا ہوا۔
البتہ ٹماٹر کی قیمت میں 46.2 فیصد، دال مونگ 24.59 فیصد، مسالہ جات 14.78 فیصد اور پیاز کی قیمت میں 7.75 فیصد کمی دیکھی گئی۔اشیائے خورونوش کے علاوہ جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ اس میں بجلی، مائع ہائیڈروکاربنز، گاڑیوں کا ایندھن شامل ہے۔