اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی شرح 21.32 فیصد ہوگئی جو 13 سال سے زائد عرصے کی بلند ترین شرح ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ادارہ شماریات کی طرف سے جاری ماہانہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 21.32 فیصد ہوگئی ہے جو دسمبر 2008 کے بعد مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں زیادہ سے زیادہ مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد رہی تھی جبکہ رواں سال مئی کے مقابلے جون میں مہنگائی کی شرح میں 6.34 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔
پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 6.19 فیصد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں 6.57 فیصد رہی۔اعداد و شمار کے مطابق مئی 2022 میں مہنگائی کی شرح 13.76 فیصد تھی جبکہ جون 2021 میں مہنگائی کی شرح 9.7 فیصد تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 23.6 فیصد رہی جبکہ جون میں شہری علاقوں میں مہنگائی 19.8 فیصد رہی۔
معلوم رہے کہ مالی سال 22-2021 کے لیے مقرر کردہ 8 فیصد اوسط مہنگائی کا ہدف بھی حاصل نہ ہوسکا اور گزشتہ مالی سال میں اوسط مہنگائی 12.15 فیصد رہی۔ متعدد شعبوں میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی دیکھی گئی لیکن یہ رجحان زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دیکھا گیا جس میں 62.17 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 36.34 فیصد اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد روز مرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی قسط جاری کرنے کے لیے سخت شرائط پر عمل درآمد کرنا شروع کیا ہے جس کی واضح مثال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔