عوام کی پرائیویسی کو خطرہ! ہزاروں شہریوں کے فون کا ڈیٹا فروخت، کہیں آپ بھی متاثرین میں شامل تو نہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Hackers are Slipping Dangerous Code Into Popular Apps: NCERT Advisory
DAWN

اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے موبائل سمز کے ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت دے دی ہے، ان کی ہدایت پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ کی ہدایت پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ہر پہلو سے ڈیٹا لیک کے مسئلے کا جائزہ لے گی۔ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اس جرم میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 14 روز کے اندر مکمل رپورٹ وزیرداخلہ کو پیش کرے۔

ذرائع کے مطابق ہزاروں پاکستانی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا لیک ہو چکا ہے، جن میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔

یہ ڈیٹا آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جس میں موبائل سم مالکان کے پتے، کال ریکارڈز، شناختی کارڈ کی نقول اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کئی ویب سائٹس پر حساس ڈیٹا انتہائی کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ موبائل لوکیشن ڈیٹا 500 روپے، تفصیلی موبائل ریکارڈ 2000 روپے اور بین الاقوامی سفر کی تفصیلات 5000 روپے میں دستیاب ہیں۔

خفیہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس ڈیٹا کا غلط استعمال خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ مجرمانہ عناصر معمولی قیمت پر متاثرہ افراد کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ ڈیٹا کس طرح لیک ہوا، اس کے پیچھے کون لوگ ہیں اور بروقت حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔

Related Posts