کراچی میں سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ دریائے سندھ میں 9 ستمبر کو گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 8 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں نکاسی آب اور حفاظتی اقدامات کو تیز کردیا گیا ہے جبکہ کچے کے علاقوں سے آبادیوں کے انخلاء کا عمل جاری ہے۔
فلڈ ایمرجنسی سینٹر کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچے کے کمزور علاقوں میں اعلانات کے ذریعے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس عمل کی براہ راست نگرانی صوبائی وزراء دائیں اور بائیں کنارے پر کر رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی غفلت نہ ہو۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن، وزیر بحالی مخدوم محبوب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ اندازاً 3 لاکھ 24 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں، جن میں سے اب تک ایک لاکھ 28 ہزار افراد اپنے گھروں کو خالی کرچکے ہیں۔
زیادہ تر متاثرہ لوگ ریلیف کیمپوں میں جانے کے بجائے پشتوں اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ اب تک 40 ہزار سے زائد مریضوں کو طبی امداد دی جاچکی ہے اور 9 لاکھ مویشیوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بائیں کنارے کے نالے (ایل بی او ڈی) سے پانی نکالنے کے اقدامات مؤثر ثابت ہورہے ہیں، ساتھ ہی انڈس ہائی وے پر پلوں کی تعمیر بھی جاری ہے تاکہ آمدورفت میں مشکلات نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ نے 2015 میں بھی بڑے سیلابی دباؤ کا مقابلہ کیا تھا اور اس بار بھی عوام اور ادارے مل کر اس صورتحال سے نمٹ لیں گے۔
پنجاب کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں صورتحال کہیں زیادہ سنگین ہے اور اصل ضرورت وہاں امداد کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیہون میں ڈوبنے والے دیہات وہ کچے کے علاقے ہیں جو ہر سال سیلاب کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بارشیں سندھ میں قابو میں ہیں اور کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں بارش بھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی کہ فوری طور پر مزید خطرہ پیدا ہو۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ تمام ریلیف اور ہیلتھ کیمپس کو جیو ٹیگ کر دیا گیا ہے، کشتیاں، راشن اور عملہ موجود ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور حکومتی اداروں سے مکمل تعاون کریں۔
ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے وقت بھی قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا اور اب بھی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری براہ راست صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور وزیراعظم سمیت تمام وفاقی اداروں سے رابطہ قائم ہے، تاہم اس وقت سندھ کو براہ راست مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کے آخر میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ شہری علاقوں میں مکمل طور پر اربن فلڈنگ کو روکنا ممکن نہیں، اصل کام پانی کو چند گھنٹوں میں نکال دینا ہے جو حکومت نے حالیہ بارشوں میں کامیابی سے کیا۔
انہوں نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قریبی افراد کی گرفتاریوں کی خبریں بے بنیاد ہیں اور کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








