شہر اقتدار میں بھی چائنہ کٹنگ کی وباء پھیل گئی، وزرات داخلہ کے ملازمین بری طرح متاثر

تازہ ترین

تازہ ترین

Interior Ministry employees seeking justice for FIA

اسلام آباد : وزارت داخلہ ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ کرپشن پر نیب  اور ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں میں ہونے والی انکوائریز کئی سالوں سے تاخیر کا شکار ہیں۔

شہر اقتدار میں جدید ترین چائنا کٹنگ کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی خلاف قانون الاٹمنٹ پر سوسائٹی ممبران وزارت داخلہ کے ممبر ملازمین حیران ہیں کہ آخر وہ کون سے محرکات ہیں اور لابنگ ہے جس کے باعث اس کے کردار دار قانون کے کٹہرے میں نہیں آسکے۔

وزارت داخلہ سمیت نیب ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں نے اس حوالے سے کاروائی کیوں نہیں کی ایف آئی اے کے سرد خانے میں پڑی وزارت داخلہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انکوائری زمینی حقائق سے کس طرح متصادم ہوئی کیا ڈی جی ایف آئی اے کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی اور کیا رپورٹ مرتب کی گئی ۔

سوسائٹی منتظمین نے غیر قانونی کاموں کی تکمیل میں میں متعلقہ اداروں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ اور سی ڈی اے قوانین کو یکسر نظر انداز کیا یا متعلقہ ریگولیٹرز کی جانب سے مناسب کارروائی نہ ہونا ان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

سوسائٹی منتظمین نے رجسٹرار کوآپریٹیو حمزہ شفقات سے تیسری بار سوسائٹی مسجد کا افتتاح کروایا تاکہ انتظامیہ کی نظروں میں سوسائٹی کی ساکھ کو بہتر کیا جا سکے سوسائٹی منتظمین نے مبینہ طور پر سوسائٹی کے لے آؤٹ پلان کو 1600 سو کنال سے بڑھا کر 25 سو کنال کیا گیا اور اس مد میں جعل سازی سے نقشے پر بغیر منظوری پلاٹس اوپن مارکیٹ میں فروخت کیے ہیں  جبکہ ایل او پی کے مطابق چھ سو کنال زمین مقامی زمینداروں کی تھی جس کے جعلی انتقالات فائل میں لگائے گئے کمرشل کو بغیر اکشن اور منظوری لیے بغیر انتہائی سستی زمین کے متبادل کے طور پر سیکرٹری آفتاب شاہ کے ذاتی ملازم ساجد حسین کو لینڈ پرووائیڈر بناکر کرالاٹ کر دیئے گئے ۔

جی 16 مرکز کے 75 فیصد کمرشل پلاٹس آکشن کی بجائے الاٹ کیے گئے جبکہ سوسائٹی نے 70 فیصد سے زائد زمین ابھی ایکوائر ہی نہیں کی ان پلاٹوں کی تفصیلات پہلے ہی خبروں اور متعلقہ اداروں سمیت ایف آئی اے میں دی جا چکی  ہے غیر قانونی اقدامات کے تسلسل میں رہائشی پلاٹوں کو بھی بغیر زمین اوپن مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے جبکہ ماضی میں امینیٹی پلاٹس کو تحلیل کرکے بیچ کر کروڑوں روپے کمائے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:سی ڈی اے نے بحریہ ٹائون کو غیر قانونی تعمیرات کی کھلی چھوٹ دیدی

انتظامی کمیٹی نے الیکشن سے قبل زمینوں کی خریداری کی مدد میں مقامی زمینداروں کو کو لینڈ کمپین سیشن کے پلاٹ دینے کی بجائے سی ڈی اے قوانین کے برعکس غیر متعلقہ افراد کو الاٹ کیے  اور قوانین کے برعکس ممبرشپں کو بڑھایا گیا تاکہ الیکشن میں دھاندلی کی جاسکے کوآپریٹیو قوانین کے مطابق بلڈ ریلیشن کو پراپرٹی کے کاروبار کی ممانعت ہے جب کے فرحان صدیقی جو کہ ایگزیکٹو ممبر ہیں وہ اپنے ذاتی دفتر کے ذریعے چائنہ کٹنگ کی مدد میں نکالے گئے پلاٹس اپنے والد کے ذریعے اوپن مارکیٹ میں فروخت کر رہا ہے ۔

اس سے قبل سوسائٹی منتظمین نے جعلی سالانہ اجلاس عام کے ذریعے اپنے غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دینے کی کوشش کی اور اس بات کو جواز بنایا کے اے جی ایم اور ایم سی تمام امور کی توثیق دے سکتی ہے سر کل رجسٹرار اور رجسٹرار کوآپریٹو جو کوآپریٹیو قوانین کے محافظ ہیں  کیا غیر قانونی اقدامات کی توثیق کا مینڈیٹ رکھتے ہیں اگر نہیں تو ان غیر قانونی اقدامات پر تاحال کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جا سکی کی؟۔

Related Posts