افغان طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے طالبان حکومت کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ایک قریبی مشیر مولوی جان محمد مدنی کو حراست میں لے لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولوی مدنی اس سے قبل دوحہ میں طالبان کے مذاکراتی وفد کا حصہ رہ چکے ہیں اور اس وقت قندھار میں دارالافتاء کونسل کے رکن کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں طویل عرصے سے طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
کم از کم تین مختلف ذرائع جن میں طالبان سے منسلک افراد بھی شامل ہیں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں چار روز قبل قندھار میں طالبان انٹیلی جنس نے گرفتار کیا اور اس وقت وہ جیل میں زیرِ حراست ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض قانونی معاملات بھی ماضی میں ان کے سپرد کیے گئے تھے تاکہ ان کا تصفیہ کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر ایک قتل کے مقدمے سے متعلق 8 لاکھ پاکستانی روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق مولوی مدنی کو طالبان سربراہ تک خصوصی رسائی حاصل تھی اور وہ اہم امور پر باقاعدگی سے انہیں مشاورت فراہم کرتے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ قندھار میں ایک دینی مدرسہ بھی چلاتے ہیں جہاں سینکڑوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
مولوی مدنی اس سے قبل دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن رہ چکے ہیں اور 2016 میں سابق افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے قبل تین رکنی وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کے خاندان کے بعض افراد اب بھی قطر میں مقیم ہیں جبکہ کچھ قندھار میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا تعلق اصل میں قندھار کے ضلع پنجوائی سے ہے اور انہوں نے دینی تعلیم سعودی عرب کے شہر مدینہ میں حاصل کی۔
طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں وہ قندھار میں غیر ملکی امور کی نگرانی کرتے رہے اور بعد ازاں سعودی عرب میں طالبان کے سفارتی ناظم الامور کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








