اسلام آباد: سیلاب زدگان کی امداد کیلئے کلائمیٹ ریزیلیئنٹ پاکستان عالمی کانفرنس پیر کے روز جنیوا میں ہوگی۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس مشترکہ میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی کانفرنس حالیہ تباہ کن سیلابوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں موسمیاتی اعتبار سے بہتر انداز میں از سر نو تعمیر کے لئے پاکستان کے عوام اور حکومت کے لئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کا کردار سرانجام دے گی۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ریسکیو اور ریلیف کے مرحلے سے بحالی اور تعمیر نو کے اہم کام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مظلوم کشمیری یومِ حقِ خود ارادیت آج منا رہے ہیں
بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان ریکوری، بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک پیش کرے گا جو اس فریم ورک کے نفاذ کے لئے بین الاقوامی تعاون اور طویل مدتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ فریم ورک کی دستاویز ایک ترجیحی اور ترتیب وار منصوبے کا خاکہ پیش کرتی ہے، جس کی وضاحت وفاقی اور صوبائی سطحوں پر کی جاچکی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ فریم ورک میں کھلے، شفاف اور باہمی تعاون کے ساتھ اس کے نفاذ کے لئے مالیاتی طریقہ کار اور ادارہ جاتی انتظامات شامل ہیں۔ کانفرنس کے پروگرام میں ایک اعلیٰ سطحی افتتاحی سیشن شامل ہو گا جس کی سربراہی وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کریں گے، اس کے بعد 4 آر ایف دستاویز کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔
عالمی کانفرنس کے دوران شراکت داری و حمایت کے اعلانات ہوں گے۔ وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مشترکہ طور پر میڈیا سے گفتگو بھی کریں گے۔ کانفرنس میں وزیر اعظم پاکستان ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے سیلاب سے متاثرہ آبادی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور ملک کو مزید متحرک کرنے کیلئے پاکستان کا ویشن عالمی برادری کے سامنے رکھیں گے۔
کانفرنس کے دوران پاکستان کے وفاقی وزراء فریم ورک دستاویز کی وضاحت کریں گے اور موسمیاتی لچک اور موافقت کے لئے پاکستان کا طویل المدتی منصوبہ بھی پیش کریں گے۔ علاوہ ازیں چاروں صوبوں کا نقطہ نظر متعلقہ صوبائی نمائندے بیان کریں گے۔کانفرنس میں مختلف ممالک کے سربراہان، وزراء اور اعلیٰ سطحی نمائندوں کے علاوہ عالمی اداروں کے نمائندگان بھی شرکت کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








