بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں گزشتہ ہفتے زبردست تیزی کا رجحان

تازہ ترین

تازہ ترین

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں گزشتہ ہفتے زبردست تیزی کا رجحان
بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں گزشتہ ہفتے زبردست تیزی کا رجحان

کراچی: بھارت نے روئی پر عائد 11 فیصد درآمدی ڈیوٹی 30 ستمبر تک ختم کردی جس کے باعث بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا زبردست رجحان رہا۔

مقامی روئی کے بھاؤ میں استحکام برقرار۔ کاروبار میں جمود۔ پانی کے شدید بحران کی وجہ سے کپاس کی بوائی متاثر۔شرح سود میں یکمشت 2.5 روپے کے اضافے سے کاروباری حلقہ سراپا احتجاج۔ 9 ماہ میں 14.26 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل کی ریکارڈ برآمدا ت ہوئیں۔

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران بھی کاروباری حجم بالکل کم رہا ٹیکسٹائل ملز بھی دام اونچے ہونے کی وجہ سے خاموش ہے اکا دکا کام سامنے آجاتا ہے، جبکہ ملک میں روئی کا اسٹاک بھی تقریبا ختم سمجھنا چاہیے،کچھ جنرز کے پاس معمولی اسٹاک ہے لیکن وہ اونچے دام طلب کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کام بہت کم ہے۔

بہرحال بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے بھوچال آیا ہوا ہے پہلے ہی دنیا بھر میں روئی کے بھاؤ میں غیرمعمولی اضافے کا رجحان چلا آرہا تھا لیکن بدھ کے روز بھارت کی حکومت نے روئی پر عائد 11 فیصد درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ صادر کیا جس کے باعث بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھاؤ میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا۔

نیویارک کے وعدے کا بھاؤ بڑھ کر مئی وعدہ 146.14 امریکن سینٹ اور جولائی وعدہ 144 امریکن سینٹ کی گذشتہ 11 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا بعد ازاں 141.98 سینٹ پر بند ہوا اس طرح گزشتہ ہفتہ کے 4 دن کے کاروبار کے درمیان نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں 20 سینٹ کا غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

وعدہ 131 سینٹ پر شروع ہو کر 15 سینٹ اضافہ کے ساتھ 146 امریکن سینٹ پر پہنچ گیا بعد ازاں 5 سینٹ کم ہوکر 141.98 سینٹ پر بند ہوا اور بھارت میں بھی روئی کا بھاؤ فی کینڈی (356 کلو) بڑھ کر 95 ہزار روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اس میں مزید اضافہ ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

دراصل بھارت میں 22-2021 کی کپاس کی موجودہ سیزن میں بارشوں، سیلابوں اور خصوصی طور پر گلابی سنڈی کی فصل پر حملے کی وجہ سے متوقع پیداوار میں کمی واقع ہوگئی جبکہ روئی کی کھپت میں اضافہ ہوا اس وجہ سے بھارت میں روئی کے بھاؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا جس کے باعث بھارت کے ٹیکسٹائل سیکٹر نے روئی پر عائد 11 فیصد درآمدی ڈیوٹی 30 ستمبر تک ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حکومت نے درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا اور ڈیوٹی فری روئی درآمد کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے فائبر پروڈیوسر نے اپنی درآمدات پر سے زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈویلپمنٹ سیس (AIDC) کو بھی ہٹا دیا ہے۔

بیرونی ممالک موجودہ بھارتی کاٹن کے بھاؤ کے نسبت کم قیمت پر روئی فراہم کر رہے ہیں موجودہ سیزن میں بھارت میں روئی کی مجموعی پیداوار 33.51 ملین گانٹھیں ہونے کی توقع ہے یاد رہے کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر روئی کی پیداوار 35.3 ملین گانٹھیں تھی بھارت کے درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کے اقدام سے بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آیا بھاؤ گذشتہ 11 سالوں کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ توقع کی جارہی ہے کہ بھارت 25 لاکھ گانٹھیں درآمد کرے گا۔

پاکستان میں مقامی کاٹن مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم رہی ملک کے سیاسی حالات میں تبدیلی کی وجہ سے خصوصی طور پر کاروباری حلقوں میں اضطراب کی صورتحال ہے آئندہ کی حکومتی حکمت عملی کیا ہوگی اقتصادی پالیسی کیسی ہوگی آئندہ سالانہ انتخابات جو ہوسکتا ہے کہ آئندہ 7 تھا 8 ماہ میں ہو جائیں گے اس کے لیے بجٹ کس طرح مرتب کیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک نے تو پہلے ہی شرح سود 12.25 روپے کر دیا ہے جس کے باعث ڈالر کی مسلسل اونچی اڑان کے بجائے ڈالر کم ہو کر 181 روپے تک نیچے آ گیا ہے جس کی وجہ سے کاروبار متاثر ہوگا۔ اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی ہو گئی آئندہ دنوں میں اقتصادی صورتحال کیسی رہتی ہے یہ سوالیہ نشان ہے۔

ملک کے کاشتکاروں کو تشویش لاحق ہے کہ آئندہ کئی ماہ انتخابات کے نظر ہو جائیں گے اس کی وجہ سے کاشتکاری متاثر ہونے کا اندیشہ ہے حکومت کے متعلقہ اداروں میں بھی تبدیلیاں تبادلے ہونگے۔ پانی کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے فصل متاثر ہوگی ان دنوں میں خصوصی طور پر کپاس کی فصل کی پیداوار عروج پر ہوتی ہے وہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے کاروبار میں سست روی رہی

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں خصوصی طور پر بھارت میں روئی پر عائد 11 فیصد ڈیوٹی 30 ستمبر تک ختم کر دی گئی ہے جس کے باعث خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں زبردست اضافہ ہوگیا مئی اور جولائی وعدے کا بھاؤ بدھ کے روز زبردست اضافے کے ساتھ تھا 146 تا 144 امریکن سینٹ سے تجاوز کر گئے تھے۔ USDA کی ہفتہ وار سیلز اور ایکسپورٹ رپورٹ کے مطابق 22-2021 کی 59 ہزار 300 گانٹھوں کی فروخت ہوئی جو پچھلے ہفتے سے 6 فیصد کم تھی۔

Related Posts