عالمی قرض سے نجات کی راہیں ہموار، دُنیا بھر میں قرض کے رجحان میں کمی

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: دنیا بھر میں قرض سے نجات کیلئے راہیں ہموار کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ آئی آئی ایف کا کہنا ہے کہ عالمی قرض میں 15000ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی معاشیات کے امور پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ڈالر کی قدر بڑھی اور قرضوں کی طلب کم ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سی پیک، پاکستان اور چین کا مختلف شعبوں میں کام تیز کرنے پر اتفاق

انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) کا کہنا ہے کہ سال 2022 کی تیسری سہ ماہی میں عالمی قرض 6400ارب ڈالر کم ہوا۔ اسی سہ ماہی کے اختتام پر عالمی قرض کا حجم 2لاکھ 90 ہزار ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی قرض کا تناسب عالمی پیداوار کا 343 فیصد ہے۔

بین الاقوامی سطح پر مالیاتی حالات غیر یقینی ہوجانے کے باعث قرضوں کی طلب کم ہوگئی ہے۔ ماہرینِ  معاشیات کا کہنا ہے کہ روس یوکرین جنگ اور اس کے بعد لمحہ لمحہ تبدیل ہوتی معاشی صورتحال نے قرض کی طلب میں کمی لانے کیلئے کردار ادا کیا۔

سال 2022 میں عالمی قرض کم ہوا۔ کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور جاپان جیسی قرض کی مستقل منڈیوں میں قرضوں کی مانگ بھی کم ہوگئی۔ رواں برس کی تیسری سہ ماہی میں صرف امریکا کے قرض میں اضافہ ہوا۔ پرائسنگ پاور سے کارپوریٹ سیکٹر کی آمدنی بڑھی۔

آئی آئی ایف کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ کم کرنے میں مہنگائی کا بھی اپنا کردار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مہنگائی کی وجہ سے ہی حکومتوں کی ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا۔ عالمی قرض اور جی ڈی پی کا تناسب مسلسل چھ ماہ سے کم ہورہا ہے۔

 

Related Posts