مدارس کے خلاف تحقیقات قانون کے دائرے سے باہر؟ الہ آباد ہائی کورٹ کا دو ٹوک فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

الہ آباد ہائی کورٹ نے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ریاست اتر پردیش میں 558 امدادی مدارس کے خلاف جاری اقتصادی جرائم ونگ کی تحقیقات کو روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس سوربھ سریواستو اور جسٹس امیتابھ کمار رائے پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے انسانی حقوق کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ شکایت کنندہ محمد طلحہ انصاری اور درخواست گزاروں کو نوٹس جاری کرے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب محمد طلحہ انصاری نے مدارس کے خلاف بعض شکایات قومی انسانی حقوق کمیشن میں جمع کرائیں جن کی بنیاد پر کمیشن نے اقتصادی جرائم ونگ کو تحقیقات کی ہدایت جاری کی۔ ان ہدایات کے بعد مدارسِ عربیہ کے اساتذہ اور دیگر فریقین نے عدالت سے رجوع کیا اور انسانی حقوق کمیشن کی 28 فروری، 23 اپریل اور 11 جون کی ہدایات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کو محض مخصوص دائرہ کار میں رہ کر کارروائی کا اختیار حاصل ہے جس کا تعین تحفظ حقوقِ انسانی ایکٹ 1993 کی دفعہ 12 میں کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دفعہ 36(2) کے تحت کمیشن ایک سال سے زیادہ پرانے کسی بھی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا مجاز نہیں جبکہ اس شکایت میں خلاف ورزی کی کوئی تاریخ ہی درج نہیں کی گئی۔

ہندو نوجوان نے مسلمان خاندان پر جان قربان کردی؛ گنیش کی لازوال داستان نے آنکھیں نم کردیں

درخواست میں یہ بھی کہا گیاکہ دفعہ 12A کے مطابق کمیشن صرف اس صورت میں تحقیقات کرسکتا ہے جب کوئی متاثرہ فریق یا اس کی جانب سے کوئی نمائندہ خود درخواست دے یا عدالت کی ہدایت ہو جبکہ موجودہ کیس میں ایسا کوئی پہلو موجود نہیں۔ شکایت مبہم ہے اور نہ ہی کسی مخصوص خلاف ورزی کی واضح تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اس لیے نہ صرف تحقیقات کا جواز نہیں بنتا بلکہ یہ کمیشن کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ 23 اپریل کو جاری ہونے والا حکومتی حکم نامہ بھی کالعدم قراردیا جائے جس کی بنیاد پر EOW نے 558 مدارس کی جامع تفتیش شروع کی تھی۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد عبوری طور پر تحقیقات روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کر دی ہے۔

Related Posts