ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کراچی کے کالج آف نرسنگ میں آیوڈین کی اہمیت اور اس کی کمی کے نقصانات پر آگاہی سیشن منعقد ہوا جس میں ماہرینِ صحت نے ماؤں اور بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں آیوڈین کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔
کالج آف نرسنگ کے مطابق یہ تقریب عالمی مہم برائے آیوڈین کمی کے تدارک کے سلسلے میں منعقد کی گئی، جس کا مقصد عوام میں گواتھیر (گلٹی)، ذہنی کمزوری اور نشوونما میں رکاوٹ جیسے امراض سے بچاؤ کے لیے آیوڈین کے استعمال کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا۔
یہ سیشن نیوٹریشن انٹرنیشنل کی آیوڈائزڈ نمک مہم کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس کی قیادت پروفیسر خیرالنسا (پرنسپل کالج آف نرسنگ) اور ڈاکٹر فاطمہ سعد (یو ایس آئی سندھ کی صوبائی منیجر) نے کی۔
پروگرام میں انسانی ترقی، دماغی صلاحیت اور جسمانی صحت پر آیوڈین کے اثرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
تقریب میں ڈاکٹر احمد علی شیخ (سندھ فوڈ اتھارٹی)، ڈاکٹر نوید بھٹو (غذائی ماہر)، اور ڈاکٹر خالد بخاری (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال) سمیت دیگر ماہرینِ صحت نے شرکت کی۔
مقررین نے آئوڈائزڈ نمک کے استعمال، صحت کے باقاعدہ معائنے، اور مربوط عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت پر زور دیا، جو آیوڈین کی کمی کے خاتمے کے لیے بنیادی حکمتِ عملی ہیں۔
پروفیسر خیرالنسا نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آیوڈین جیسے معدنیات دماغی اور جسمانی نشوونما کو مضبوط بناتے ہیں، اور ان کی کمی مستقبل کی نسلوں کی ذہانت اور کارکردگی پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ سعد نے کہا کہ ماؤں اور بچوں کی صحت میں آیوڈین کا کردار بنیادی ہے جبکہ ڈاکٹر نوید بھٹو اور ڈاکٹر احمد علی شیخ نے آئوڈائزڈ نمک کے استعمال کو ایک سادہ مگر مؤثر حفاظتی اقدام قرار دیا۔
ڈاکٹر خالد بخاری نے پروفیسر خیرالنسا اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نرسنگ طلباء نے صحت کے پیغامات کو تخلیقی انداز میں پیش کر کے عوامی آگاہی میں اہم کردار ادا کیا۔
ایونٹ کے اختتام پر بی ایس نرسنگ کے طلباء نے آئوڈین کی اہمیت پر آگاہی بڑھانے اور ایک صحت مند، آیوڈین سے بھرپور پاکستان بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








