حکومت وعدے کرکے بھول گئی! پہاڑ کی چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیما شہروز کاشف قرض کے سمندر میں ڈوب گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan’s Top Mountaineer Left in Debt After Government Fails to Deliver Promised Support
ONLINE

پاکستان ہمیشہ سے اپنے غیر روایتی شعبوں کے ہیروز کو نظرانداز کرتا آیا ہے اور تازہ ترین مثال عالمی ریکارڈ رکھنے والے کوہ پیما شہروز کاشف ہیں جو حکومت کی وعدہ خلافیوں اور عدم تعاون کی وجہ سے قرضوں میں ڈوب گئے ہیں۔

دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں پر پاکستان کا پرچم لہرانے والے 23 سالہ شہروز کاشف نے انکشاف کیا کہ حکومتی وعدے پورے نہ ہونے کے باعث وہ اس وقت بھاری قرض میں مبتلا ہیں اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

شہروز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہیں اپنی مہمات کے لیے اپنی زمین اور گاڑی فروخت کرنا پڑی کیونکہ حکومتی اداروں نے اپنے بار بار کے وعدے پورے نہیں کیے۔

 

انہوں نے لکھا کہ حکومت نے مدد کا وعدہ کیا تھا مگر سب بھول گئے۔ میں نے اپنی زمین، اپنی گاڑی بیچی اور اب بھی پچھلی مہمات کے قرض میں ڈوبا ہوا ہوں۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں کسی ایسے شخص کے ساتھ جس نے پاکستان کا پرچم تمام چودہ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں پر لہرایا؟

اگرچہ رواں سال شہروز کاشف کو ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن ان کے مطابق انہیں کسی قسم کا مالی انعام یا سرکاری معاونت فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر عطااللہ تارڑ کو ٹیگ کرتے ہوئے ان سے نوٹس لینے کی اپیل کی۔

ایک انٹرویو میں شہروز کاشف نے بتایا کہ ان کا کوہ پیمائی کا سفر انہیں چار کروڑ روپے سے زیادہ کا پڑ چکا ہے جو مکمل طور پر خود سے یا قرضے لے کر پورا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر روپیہ میری اپنی جیب سے یا قرض سے آیا۔ میں نے یہ سب پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے کیا، شہرت کے لیے نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب شہروز کاشف نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہو۔ 2022 میں بھی انہوں نے ادارہ جاتی عدم تعاون پر شکایت کی تھی حالانکہ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کو نمایاں مقام دلوایا۔

اب شہروز کا کہنا ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو وہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

Related Posts