آئی پی ایل 2025 کے میچ نمبر 63 میں ممبئی انڈینز نے دہلی کیپیٹلز کو واضح فرق سے شکست دے کر نہ صرف خود کو پلے آف مرحلے میں شامل کر لیا بلکہ دہلی کو ایونٹ سے باہر کردیا۔
اس کامیابی کے بعد ممبئی انڈینز کی شاندار کارکردگی اور دہلی کی مایوس کن ناکامیوں پر مبنی دلچسپ اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں جو اس سیزن کی تاریخ کو منفرد بنا رہے ہیں۔
یہ گیارہواں موقع ہے کہ ممبئی انڈینز آئی پی ایل کے پلے آف یا سیمی فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2010، 2011، 2012، 2013، 2014، 2015، 2017، 2019، 2020 اور 2023 میں بھی پلے آف میں جگہ بنا چکے ہیں۔ ان سے زیادہ بار صرف چنئی سپر کنگز نے، جو بارہ بار ٹاپ فور میں شامل ہوئی۔
دہلی کیپیٹلز آئی پی ایل کی تاریخ کی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے سیزن کے ابتدائی چاروں میچز جیتنے کے باوجود ٹاپ فور میں جگہ نہیں بنائی۔ ممبئی انڈینز نے دہلی کے جیت کے سلسلے کو روکا اور وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں دہلی کو ایونٹ سے باہر کر دیا۔
ممبئی انڈینز کی اس سیزن کی آٹھ فتوحات میں سے چھ فتوحات ایسے فرق سے ہوئیں جہاں یا تو 40 سے زائد رنز سے کامیابی حاصل ہوئی یا 25 سے زائد گیندیں باقی تھیں۔
اس طرح کے بڑے فرق سے فتح حاصل کرنے کا یہ ریکارڈ کسی بھی آئی پی ایل سیزن میں کسی بھی ٹیم کے ساتھ برابر ہے۔ انہوں نے 2020 میں بھی ایسے ہی چھ بڑے فرق سے فتوحات حاصل کی تھیں۔
اس سیزن میں ممبئی انڈینز نے تیسری بار 50 یا اس سے زائد رنز کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ وہ اس سے پہلے 2010 اور 2013 میں بھی تین تین بار اتنے بڑے فرق سے میچ جیت چکے ہیں جبکہ گجرات ٹائٹنز نے 2023 میں یہی کارنامہ انجام دیا تھا۔
اس سیزن میں ممبئی انڈینز نے پانچ بار مخالف ٹیم کو مکمل طور پر آؤٹ کیا ہے، جو کسی بھی ٹیم کی طرف سے سب سے زیادہ مرتبہ ہے۔
دیگر تمام ٹیموں نے مجموعی طور پر صرف سات بار حریف ٹیم کو آل آؤٹ کیا ہے۔ اس سے زیادہ بار صرف کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 2024 میں چھ بار ایسا کیا تھا۔
بدھ کے دن کے میچ کے بعد لیگ مرحلے میں صرف سات میچز باقی ہیں اور یہ پہلا موقع ہے جب اتنی جلدی چاروں پلے آف ٹیمیں طے ہو گئیں۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 2011 میں بنا تھا جب 70 لیگ میچز میں سے 67ویں میچ کے بعد پلے آف ٹیمیں طے ہوئیں تھیں۔
Top four sealed seven games early
Matches to decide the top four teams in the league stage in every IPL season
| 2008 | 54 | 56 | 2 |
|---|---|---|---|
| 2009 | 56 | 56 | 0 |
| 2010 | 56 | 56 | 0 |
| 2011 | 67 | 70 | 3 |
| 2012 | 71 | 72 | 1 |
| 2013 | 72 | 72 | 0 |
| 2014 | 56 | 56 | 0 |
| 2015 | 56 | 56 | 0 |
| 2016 | 56 | 56 | 0 |
| 2017 | 55 | 56 | 1 |
| 2018 | 56 | 56 | 0 |
| 2019 | 56 | 56 | 0 |
| 2020 | 56 | 56 | 0 |
| 2021 | 55 | 56 | 1 |
| 2022 | 69 | 70 | 1 |
| 2023 | 70 | 70 | 0 |
| 2024 | 68 | 70 | 2 |
| 2025 | 63 | 70 | 7 |
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








