معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر اقرا کنول نے اپنی بیٹی کی پیدائش کے موقع پر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس کے بعد عوامی حلقوں میں سخت تنقید اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
&
الارمنگ الرٹ 🚨
اب ڈلیوری کی باتیں یوں ویلاگ میں بتانا ضروری تھی کیا ہی بےحیا اور بے غیرت لوگ پائے گئے ہیں،،، ماشاءاللہ ڈالرز کے چکر میں روز پاکستانی قوم بے حیائ کیطرف نیا قدم اٹھاتے ہیں !!pic.twitter.com/oMjPv3smHv
— Mohammad Shehzad Khan (@MShehzadSpeaks) September 13, 2025
nbsp;
اس اقدام کو کئی صارفین نے افسوسناک اور غیر مناسب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے حساس اور نجی لمحات کو تشہیر کے لیے استعمال کرنا معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔
پاکستان میں جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے، ایسے ویلاگ دیکھنے والوں پر حیرانی ہے، وہ نہ دیکھیں تو ایسے ویلاگ بھی کوئی نہ بنائے
— Ahtasham Ashiq (@ashiq_ahtasham) September 14, 2025
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب ڈیلیوری جیسے معاملات کو بھی ویلاگ کا حصہ بنانا کہاں کی عقل مندی ہے؟ یہ لوگ ڈالرز کے لالچ میں پاکستانی معاشرے کو مسلسل بے حیائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ایک دن انکے شوہرکیمرے لے کو لائیو مناظر بھی دکھا دیں گے انتظار کرو 😜 دوسرے بچے کا
— Dr (@botsot1974) September 14, 2025
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ ان لوگوں کا نہیں جو ویڈیوز بناتے ہیں بلکہ ان افراد کا ہے جو انہیں آگے بڑھاتے ہیں اور شیئر کرتے ہیں کیونکہ وہی بے حیائی کو مزید عام کرتے ہیں۔
اسکی ڈلیوری لائک مختلف تھی ایلین نے کے تھی شاید باقی عورتوں کی جس طرح ہوتی ہے اسکی نہیں تھی 😡
— INSP ZENDE (@AD77YK) September 14, 2025
بعض صارفین نے حکومت اور سائبر کرائم ایجنسی پر بھی سوال اٹھایا کہ آخر کیوں سوشل میڈیا کے لیے کوئی واضح معیار طے نہیں کیا جاتا، جہاں ہر طرح کی نامناسب اور ولگر ویڈیوز ڈالروں کے عوض پیش کی جاتی ہیں۔
شکر کریں بچہ ھونے کی وڈیو نہیں ڈال دی
— Abid Hussain (@Abidmughl) September 14, 2025
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو کچھ فروخت ہوتا ہے وہی دکھایا جاتا ہے، لیکن ایسے ویلاگ دیکھنے والوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ اگر وہ ان ویڈیوز کو نہ دیکھیں تو کوئی بھی انہیں بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔
کچھ وقت بعد ڈلیوری ہوتے ہوے بھی شاید دیکھاے🤧
— Lunar Mist (@MistLuner) September 14, 2025
کچھ ناقدین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان افراد کا بس نہیں چلتا کہ عام ڈیلیوری کے مناظر براہِ راست دکھا دیں اور جلد ہی ان کے شوہر بھی لائیو کیمروں کے ذریعے اس طرح کے مناظر پیش کرنے لگیں گے۔
جوتے مارنے چاہیے
— MS (@Muhamma39696507) September 13, 2025
عوام کا کہنا ہے کہ معاشرے کو اس روش پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ سوشل میڈیا کو مثبت اور بامقصد بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








