ایران:ایرانی حکومت نے پولیس کی حراست میں خاتون کی موت کے بعد ملک میں ہونے والے مظاہروں کے لیے ”غیر ملکی دشمنوں ” کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بد امنی پھیلانے کے الزام میں 9یورپی باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
جرمنی، پولینڈ، اٹلی، فرانس، ہالینڈ، سویڈن اور دیگر ممالک کے شہریوں کی حراست سے مہسا امینی کی ہلاکت پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے والے مسلح مظاہرین پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے بعد 19افراد ہلاک ہو گئے۔
تہران نے اس کیس کی بین الاقوامی مذمت کا جواب اپنے ناقدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کیا، ایران نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ بدامنی کا فائدہ اٹھا کر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انٹیلی جنس وزارت نے ایرانی میڈیا کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہا کہ 9 نامعلوم افراد کو ”ہنگاموں کے دوران یا پس منظر میں سازش کرتے ہوئے” حراست میں لیا گیا۔
مظاہرے امینی کے آبائی شہر سے لے کر ایران کے تمام 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں، جن میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں سمیت معاشرے کی تمام پرتیں شامل ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت نے حکومتِ پاکستان کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ غیر فعال کردیا
انسانی حقوق کی مغربی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران، جہاں فارسی شیعہ اکثریت ہے، نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک رواں رکھتا ہے۔ جبکہ تہران نے اس کی تردید کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








