ایرانی صدر نے سفارت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکا سے جوہری پروگرام پر معقول بات چیت کریں ، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کچھ کمی آئی جبکہ اپنی پیر کی رپورٹ میں الجزیرہ کا کہنا ہے کہ امریکا نے خطے میں جنگی بحری جہاز جمع کررکھے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے متعدد بار دھمکایا، تاہم پیر تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے مابین بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے، تاہم ایران پر امریکا کے حملے کے امکانات 70فیصد تک جا پہنچے ہیں۔
پیر کے روز نیو یارک ٹائمز نے بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی ور ایرانی وزیر خارجہ کی جمعہ کے روز ترکیہ میں ملاقات ہوگی جس میں امریکی دھمکیوں کے تناظر میں جوہری افزودگی سے متعلق مطالبات پر گفتگو متوقع ہے۔ اس سے قبل یہ حقیقت بھی سامنے آئی تھی کہ پاکستان ، مصر، اردن اور ترکی جیسے ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خود کسی براہِ راست تصادم کا حصہ بننا نہیں چاہتے ۔
ایران کی جانب سے اس معاملے پر غیر معمولی وضاحت کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اگر اس پر کسی بھی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری راستے سے حملہ ہوا تو وہ نہ صرف حملہ آور بلکہ سہولت فراہم کرنے والے ملک کو بھی ہدف بنائے گا۔ روس اور چین کے ہمراہ حالیہ بحری مشقیں، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافہ، اور دفاعی صنعت کو روزانہ چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے سات دن فعال رکھنے کی اطلاعات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ایران محض بیانات پر اکتفا نہیں کر رہا۔ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران بیک وقت بڑی تعداد میں ڈرونز لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اہم ہے۔دوسری جانب امریکا کی سرگرمیاں بھی غیر معمولی رہیں۔ فضاء میں ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں، الیکٹرانک نگرانی کے نظام، سائبر وارفیئر کے وسائل اور بحری و فضائی اثاثوں کی خطے میں تعیناتی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ امریکا ایران کی ہر عسکری نقل و حرکت کی مکمل مانیٹرنگ کر رہا ہے اور ایرانی سرگرمیوں کو خطے کے امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ بظاہر امریکا کی قومی سلامتی کیلئے بھی خطرہ سمجھتا ہے۔
ایک جانب ایران کا رقبہ 16 لاکھ 48 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد جبکہ دوسری جانب امریکا کا 98 لاکھ 30 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور دونوں کے مابین کم از کم فاصلہ بھی 10 ہزار 500 کلومیٹرز کے لگ بھگ ہے تو سوال یہ ہے کہ امریکا اتنے چھوٹے اور خود سے اتنے دور ملک سے کس قسم کی قومی سلامتی کے خوف میں مبتلا تھا اور اس پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دی ہی کیوں؟ تو اس کا جواب اسرائیل کی حمایت کرتی ہوئی امریکی پالیسی ہے جس نے ہمیشہ سے ایران کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جو ان کو جوہری طاقت بننے کی تیاریاں کرتا نظر آیا، تاہم اب ایران نے جوہری معاملے میں بھی عالمی قوانین کے مطابق نرمی دکھلانے کا اشارہ دیا ہے تو امریکا ، جس کے ممکنہ اہداف میں ایرانی جوہری تنصیبات، پاسداران انقلاب کے مراکز اور عسکری کمانڈ ڈھانچہ شامل ہو سکتے تھے ، وہ اپنے دھمکی آمیز رویے پر نظر ثانی کرنے کے موڈ میں آسکتا ہے جس کے تناظر میں عالمی سطح پر معاشی بحالی کے آثار بھی نمایاں ہوئے ۔ تاہم اب بھی کسی غلط فہمی اور تباہ کن بیان بازی کے نتیجے میں ناگہانی جنگ کا خطرہ بتدریج موجود ہے، جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ روس اور چین ایران کی سفارتی حمایت تو کرتے ہیں ، لیکن براہ راست عسکری مداخلت کا امکان نہیں۔ اگرچہ امریکا عسکری تیاریوں میں آگے دکھائی دیتا ہے، مگر خطے کے ممالک کے تحفظات، عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات اور ایران کی واضح جوابی حکمت عملی امریکا کے اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس پر چل کر وہ ایران کو حملوں کا نشانہ بنانا چاہتا ہے، جن کا مقصد واضح طور پر ایران کو کمزور کرکے خطے میں نہ صرف اپنی بلکہ اسرائیل کی بھی بالادستی قائم کرنا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ جمعہ کےروز ہونے والی ملاقات میں کیا بات کی جائے گی؟ تو امریکا 4 شرائط عائد کرنا چاہتا ہے کہ اول تو افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کیا جائے، دوم افزودگی روکی جائے، سوم طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی کی جائے اور چہارم کہ علاقائی پراکسیز سے تعاون بند کیا جائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ امریکا اور ایران کے مابین جوہری معاہدہ ہونے کے امکانات کتنے ہیں اور کیا امریکا ایران پر حملہ کرے گا؟ تو حملے کے امکانات کا تخمینہ 70 فیصد تک جا پہنچا ہے جبکہ 30 فیصد یا اس سے بھی کم امکانات یہ ہیں کہ دونوں ممالک مفاہمت کرلیں گے ۔ اس سے قبل 31 جنوری کو ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈپلومیسی اور ڈکٹیشن میں بڑا فرق ہوتا ہے، امریکا ہمیں دھمکانے سے باز رہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔ ابھی امریکی بحری بیڑا ابراہم لنکن ایران کے مزید قریب آگیا ہے۔
ایران ہمیشہ سے ایک ہوموجینس معاشرہ رہا ہے جس نے تکالیف اور مصائب برداشت کیے۔ اب ایران میں کرپشن بھی ہے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ پھر معاشی مسائل کے باعث بھی لوگ حکومت سے متنفر ہوئے ۔ تاہم اگر کوئی باہر سے حملہ آور ہو تو وہ ایک بار پھر جڑ جاتے ہیں اور آپس کی کدورتیں دور کرلیتے ہیں ، حالانکہ گزشتہ برس ایرانی کرنسی کی قدر میں 40 فیصد تک کمی آئی اور پچھلے 5 سال میں کرنسی 800 فیصد ڈی ویلیو ہوئی جس کی وجہ سے عوام حکومت سے خائف ہیں۔امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جیسے ہی حملہ کریں گے، مظاہرین ایک بار پھر گھروں سے نکل کر ایرانی حکومت کا جینا محال کردیں گے اور اسی دوران امریکا کی وہ ڈیلٹا فورس جس نے وینزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کیا تھا، ایرانی سپریم لیڈر سمیت دیگر قیادت کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی ، تاہم ایران کو آسان ہدف سمجھنا صدر ٹرمپ کی بڑی غلطی ہوگی کیونکہ ایران وینزویلا نہیں ہے اور خطے کی صورتحال کو جمعہ کے روز ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے ساتھ بہتر کیاجاسکتا ہے، حالانکہ اس کے امکانات محدود ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں